Kamray Ki dunya کمرے کی دنیا

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

کمرے میں بہت گرمی تھی. کونے میں ایک چھوٹا سا فرشی پنکھا رکھا تھا. اس کے پروں سے ہوا کم اور ٹھک ٹھک کی آوازیں زیادہ آ رہی تھیں. چھت اور دیواریں لوہے کی تھیں اور انہوں نے گرمی میں تپ کر کمرے کو اوون بنا دیا تھا. زمین پر گندے لفافے پرانے اخبار اور پلاسٹک کی پیکنگ بکھری ہوئی تھی. فرش لکڑی کا تھا. گیلا تھا اور اس میں سے بدبو آرہی تھی اوردیوار پر سیاہ رنگ کا قدیم کلاک لٹک رہا تھا. رضوان سمیت کمرے میں چار لوگ تھے اور سب لوہے کی کرسیوں پر دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے.
پہلے نمبر پر موراکو کا ایک تاجر بیٹھا تھا اس کا پیٹ نکلا ہوا تھا لیکن باقی جسم متناسب تھا . بال سامنے سے اُڑے ہوئے تھے اور وہ بار بار سر پر ہاتھ پھیر کر بال سنوارنے کی کوشش کر رہا تھا. اس نے عملے کو بتایا تھا. میں طنجہ میں کھجوروں کا کاروبار کرتا ہوں. وہ اپنےحلیے سے بھی کھجوروں کا تاجر لگتا تھا. اس کے ساتھ ایک جوان پولش خاتون بیٹھی تھی. یہ اپنے ہینڈ بیگ سے بار بار چھوٹا سا آئینہ نکالتی اور دیر تک اپنے بال اور ہونٹ ٹھیک کرتی رہتی تھی. اس کی حرکتیں اس کی بیک گرائونڈ اور اس کے پیشے کی نشان دہی کر رہی تھیں. رضوان تیسرا تھا.اس کا ٹرالی بیگ اس کے سامنے پڑا تھا. اس نے اپنی دونوں ٹانگیں اس پر رکھی ہوئی تھی اور مزے سے کتاب پڑھ رہا تھا. رضوان تھوڑی تھوڑی دیر بعد دائیں بائیں دیکھتا تھا. اورپھر کتاب میں کھو جاتا تھا اور اس کے بعد ایک بوڑھی فرنچ بیٹھی تھی. اس کے ہاتھوں میں رعشہ تھا اور چہرے پر جھریوں کے الجھے ہوئے جال بچھے تھے. انہیں وہاں تین گھنٹے ہو چکے تھے. اس دوران صرف ایک بار پولیس کا ایک اہلکار اندر آیا اور انہیں پانی کی بوتلیں پکڑا کر واپس چلا گیا. کمرے کا لوہے کا دروازہ بند تھا لیکن اس کے نیچے سے روشنی کی ہلکی ہلکی لکیر اندر جھانک رہی تھی. یہ لکیر بیرونی دنیا سے ان کا واحد رابطہ تھی. اچانک دور سے تیز تیز قدموں کی آواز سنائی دی. چاروں نے سر اٹھائے اور اپنے کان اور نظریں دروازے کی طرف لگا دیں. قدم دروازے پر آ کر رک گئے. روشنی کی لکیر میں دو سیاہ دھبے ابھر آئے. باہر سے لاک کھلنے کی آواز آئی. دروازہ چڑچڑایا. امیگریشن آفیسر اندر داخل ہوااور اس نے رضوان کا پاسپورٹ ہوامیں لہراکر زور سے کہا ’’مسٹر شودری کم ود می‘‘ وہ آفیسر کے ساتھ باہر آ گیا. باہر کی دنیا کمرے سے باکل مختلف تھی. باہر روشنی بھی تھی. ہریالی بھی رونق بھی , آسمان پر پرندے اڑ رہے تھے. دور دور تک ہریالی بکھری تھی. ہوا میں تازگی تھی اور اس کے سامنے سیکڑوں روسی حسینائیں بھی پھر رہی تھیں. اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا گارڈ کمرے کا دروازہ بند کر رہا تھا. اندر اسی طرح اندھیرا گرمی حبس اور ڈپریشن تھا. اس نے آگے کی طرف دیکھا تو کمرے سے تین فٹ کے فاصلے پر رونق ہی رونق اور تازگی ہی تازگی تھی. گارڈ رضوان کو لے کر مرکزی دروازے پر آیا. پاسپورٹ اس کے ہاتھ میں دیا گیٹ کا بٹن دبایا اور ’’ویل کم ٹو رشیا‘‘ کہہ کر گیٹ سے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔یہ سات سال پرانی بات ہے. رضوان چار دن کے لیے روس گیا ماسکو ائیرپورٹ پر اترا تو امیگریشن نے روک لیا اور ائیرپورٹ کے اندر سے مختلف غار نما کوریڈورز سے گزار کراسکو ایک چھوٹے سے گندے کمرے میں لے گئے. اس سے پہلے وہاں دو لوگ بیٹھے تھے. وہ ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور ایک فرنچ مائی کو بھی ان کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا اس کے ساتھی پریشان تھے. وہ بھی شروع میں پریشان رہا لیکن پھر کتاب پڑھنا شروع کر دی. وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر اندازہ کر چکاتھا یہ کھیل ایک آدھ گھنٹہ چلے گا اور یہ لوگ پھر ہمیں ایک ایک کر کے ماسکو ائیرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت دے دیں گے. ان کا انتظار بہرحال تین گھنٹے تک طویل ہو گیا اور اس کے بعد سب سے پہلے رضوان کو’’عزت‘‘ کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی.

کمرے کی دنیا Kamray Ki dunya

آئے ہم کمرے کے تِین گھنٹوں کا تجزیہ کرتے ہیںکمرے میں روس دنیا کی بدصورت, مشکل اور انتہائی فضول جگہ محسوس ہو رہا تھا لیکن جوں ہی وہ کمرے سے باہر آیا تو اسکی رائے تبدیل ہو گئی یہ ملک اب جنت کا ٹکڑا تھا. تین چار فٹ کے فاصلے اور ایک دروازے نے اسکی رائے 180د رجے تبدیل کر دی
ہم انسان بھی نفرت, محبت, دوستی, دشمنی اور تعصب کے مختلف کمروں میں رہتے ہیں. ہماری ہر قسم کی رائے ہمارے کمروں کی وجہ سے ہوتی ہے. ہم جس کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں ہمیں پوری دنیا ویسی دکھائی دیتی ہے لیکن ہم جب اس کمرے سے باہر آتے ہیں توہمیں پھر زندگی کی اصل حقیقتیں نظر آنے لگتی ہیں. ہم انسان کمروں میں زند گی گزار رہے ہیں. کام یابی ہو یا ناکامی, صحت ہو یا بیماری, خوب صورتی ہو یا بدصورتی یہ سب کمرے ہیں. ہم میں سے جو شخص جس کمرے میں ہے اس کی نظر میں پوری کائنات ویسی ہے اور اس کی یہ کائنات اس وقت تک ویسی رہتی ہے جب تک وہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتا, شہریت, مذہب اور مسلک بھی کمرے ہیں اور ہماری عصبیتیں, پرائڈز اور بہادری ,بزدلی بھی . یورپ کے کمرے میں بیٹھے لوگ جب ایشیا اور افریقہ کو دیکھتے ہیں یا افریقہ اور ایشیا کے کمروں میں محبوس لوگ جب فرسٹ ورلڈ کو دیکھتے ہیں تو یہ انہیں عجیب اور اجنبی محسوس ہوتے ہیں. چرچ کے کمرے میں بیٹھے قیدی کو مسجد کے لوگ کافر اورمسجدوں میں بیٹھے لوگوں کو مندروں‘ ٹمپلز‘ سینا گوگ اور کلیسائوں میں بیٹھے لوگ واجب القتل محسوس ہوتے ہیں. جمہوریت کے کمرے میں بیٹھے لوگ اسٹیبلشمنٹ کو ملک کا دشمن اور اسٹیبلشمنٹ کے کمرے میں براجمان لوگوں کو سیاست دان سیکورٹی رسک محسوس ہوتے ہیں. ہم سب لوگ کمروں میں محبوس ہیں اور ہم اپنے کمروں کو کائنات کی حقیقت سمجھ لیتے ہیں. ہماری آنکھ کی لالی پوری زمین کو سرخ بنا دیتی ہے اور ہماری انگلی کی چوٹ پورے ملک کو دکھی سمجھ بیٹھتی ہے لہٰذا پھر معاشرے, ملک اور دنیا میں امن کیسے آ سکتا ہے؟ ہم اگر امن سے رہنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے کمرے سے باہر نکل کر دنیا کو دیکھنا ہو گا. ہو سکتا ہے باہر کی حقیقت ہمارے اندر کی حقیقت سے مختلف ہو,اصل ریالٹی مکمل طور پر مختلف ہو۔ کیوں کہ ہم لوگ جب تک اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلیں گے ہمیں اس وقت تک دنیا اور زندگی کی سمجھ نہیں آئے گی. ہم اس وقت تک اسی طرح اپنے کمرے کو جنت سمجھتے رہیں گے۔

Leave a Reply