Angela Merkel اینجلا مرکل

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:1 Comment

اینجلا مرکل 2005 سے 2021ء تک جرمنی کی مسلسل چانسلر ہیں. یہ پچھلے 9 سال سے فوربز میگزین کی موسٹ پاورفل لیڈی , پورے یورپ اور فری ورلڈ کی لیڈر بھی ہیں. اینجلا مرکل 1954ء میں ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں. والدین کے ساتھ

مشرقی جرمنی گئیں. 1986ء میں کوانٹم کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور ریسرچ سائنس دان کے طور پر کام شروع کر دیا. مشرقی جرمنی میں 1989ء میں سیاسی بیداری کا عمل شروع ہوا تو یہ سیاست میں آئیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھا. مختلف پوزیشنز

پر کام کرتی رہیں. 2002ء میں اپوزیشن لیڈر بنیں. اور 2005ء میں گرہارڈ شنوڈر کو ہرا کر جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر بن گئیں. یہ انقلاب تھا . اس خاتون نے اس کے بعد کمال کر دکھایا اور پھران کی لائین لگا دی. جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا. ملک میں امن, سکون اور استحکام آیا اور جرمنی کی دنیا میں معاشی دھاک بٹھا دی. یہ مسلسل 15سال تک چانسلر رہیں‘ یہ مزید بھی چانسلر رہ سکتی تھیں لیکن انہوں نے 2018ء میں اعلان کر دیا ’’میں 2021ء کے الیکشنز میں حصہ نہیں لڑوں گی. میں سیاست سے ریٹائر ہو رہی ہوں‘‘ یہ عجیب اعلان تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ جرمنی, یورپ اور دنیا کی مشہور ترین سیاست دان ہیں. لوگ ان سے محبت کرتے ہیں لہٰذا یہ اگر چاہیں تو یہ مزید دس بارہ سال تک چانسلر کےعہدے پر رہ سکتی ہیں لیکن انہوں نے خود ہی اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا. یہ یقینا انقلاب ہے لیکن ان کا اصل انقلاب ان کا سادہ لائف سٹائل ہے۔

اینجلا مرکل نے 18سال پہلےجرمنی کےشہر برلن میں ایک فلیٹ خریدا تھایہ درمیانے درجےکا مڈل کلاس فلیٹ ہے. یہ پچھلے 18سال سے اپنے خاوند جوکم سیور کے ساتھ اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے. خاوند جوکم سیور یونیورسٹی میں کیمسٹری کا پروفیسر ہے. روز بس پر یونیورسٹی جاتا ہے اور اسے اگر بیرون ملک سفر کرنا پڑے تو یہ سستی ائیر لائینزپر اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے. یہ دونوں میاں بیوی 23سال سے اکٹھا ناشتہ کرتے ہیں. اور ناشتہ یہ دونوں مل کر بناتے ہیں. برتن بھی دونوں خود دھوتے ہیں اور اس کے بعد اینجلا مرکل چانسلر کی گاڑی میں اپنےآفس چلی جاتی ہیں جب کہ خاوند بس یا پھر چھوٹی ذاتی گاڑی میں یونیورسٹی روانہ ہوجاتا ہے. اینجلا مرکل نے 20سال سے قیمتی جوڑے نہیں خریدے. الماری میں تیس پرانی جیکٹس اور کورٹس ہیں. اس کے پاس ٹرائوزر بھی صرف سفید رنگ کے ہیں اور یہ دنیا کو 18سال سے انہی وائیٹ ٹرائوزرز میں نظر آ رہی ہے. اس کے پاس صرف ایک نیکلس ہے . دنیا نے آج تک اس کے گلے میں صرف یہی نیکلس دیکھا. ہیئرسٹائل بھی ایک ہی رہا. اینجلا مرکل کے صرف تین شوق ہیں ہائیکنگ, فٹ بال اور کھانا بنانا. اینجلا پروفیشنل شیف ہے.

اینجلا مرکل نے اقتدار کے 15برسوں میں روزانہ 20 گھنٹے کام کیا. یہ صرف چار گھنٹے سوتی ہے تاہم اس کا کہنا ہے میں اپنی نیند سٹور کر لیتی ہوں. اور چھٹی کے دن میں اپنی نیند پوری کر لیتی ہوں یہ اپنے سٹاف کو ہر وقت دستیاب رہتی ہیں. اسے آدھی رات کو بھی فون کریں تو یہ فون خود اٹھاتیہے اور اس کی آواز میں کسی قسم کی تھکاوٹ بھی نہیں ہوتی. لوگ اس کے یکساں ہیئرسٹائل, ایک جیسے کپڑے اور نیکلس کا مذاق اڑاتے ہیں تو یہ ہنس کر جواب دیتی ہے ’’میں جرمنی کی چانسلر ہوں‘ فیشن گرل نہیں‘‘

یہ 2008 ء میں ناروے میں فیشن شو میں مدعو تھی. یہ ناروے کے وزیراعظم کے ساتھ شو میں گئی لیکن پورے ہال میں سب سے سستے کپڑے اس نے پہن رکھے تھے.اس کے سوٹ کی مالیت صرف پانچ یورو تھی اور وہ بھی چار سال پرانا تھا جب کہ ویٹرز تک کے ڈریس مہنگے اور ماڈرن تھے مگر اس سستے سوٹ کے باوجود پورے ہال میں آئرن لیڈی صرف ایک ہی تھی اور اس کا نام تھا اینجلا مرکل۔ اس کا کہنا ہے . ہم اپنے کپڑے رات کو مشین میں ڈالتے ہیں کیوں کہ رات کے وقت بجلی بھی زیادہ ہوتی ہے اور سستی بھی تاہم مجھے ہر وقت یہ خوف رہتا ہے مشین کی وجہ سے ہمارے ہمسایوں کی نیند خراب نہ ہوتی ہو لہٰذا میں ایک دن ان کے پاس گئی اور ان سے رات کے وقت مشین چلانے کی اجازت لی . ریٹائرمنٹ کے وقت اس کے کل اثاثے ساڑھے گیارہ ملین یورو ہیں اور یہ اس رقم میں برلن میں ڈھنگ کا مکان تک نہیں خرید سکتی لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن ہے. کیوں؟ کیوں کہ یہ سمجھتی ہے یہ رقم دونوں میاں بیوی کے لیے کافی ہے۔

میں نے جب اینجلا مرکل کے بارے میں یہ چیزیں پڑھی تو خود سے سوال کیا یہ کون لوگ ہیں؟ یہ اوصاف تو ہمارے اسلاف کے ہیں رسولؐ ہمارے سادہ تھے اور اللہ نے ایمان داری, اخلاص اور ان تھک محنت کا حکم ہمیں دیا تھا لیکن محنتی یہ لوگ نکلے, اخلاص کے پیکر بھی یہ ہیں, ایمان دار بھی یہ اتنے ہیں کہ یہ حکمران ہونے کے باوجود کپڑے دھونے کی مشین بھیہمسایوں سے پوچھ کر چلاتے ہیں اور یہ 15سال کے اقتدار کے بعد خود ہی کرسی سے اٹھ بھی جاتے ہیں. یہ کون لوگ ہیں؟ یہ لوگ عالم اسلام کی کھوئی ہوئی میراث ہیں. رسولؐ ہمارے تھے, قرآن ہمارا تھا اور خلفاء راشدین بھی ہمارے تھے لیکن افسوس ان پر عمل ان لوگوں نے کیا لہٰذا آج ہم پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں. ہم دنیا کے مہنگے ترین کپڑے پہن کر جہازوں میں بیٹھ کر اس اینجلا مرکل کے سامنے امداد کا کشکول پھیلا رہے ہیں جس نے پانچ یورو کے 20سال پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور جو گھر سے صبح کے برتن دھوکر آفس آتی ہے اور شام کو اپنے کپڑے خود استری کرتی ہے اور اس کا خاوند بیوی کی 15سالہ چانسلری کے باوجود پروفیسر کا پروفیسر رہتا ہے لیکن ہمیں اس کے باوجود شرم نہیں آتی۔

This Post Has One Comment

Leave a Reply