Boman Irani بومن ایرانی

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Boman Irani بومن ایرانی

بومن ایرانی بالی ووڈ کے مشہورترین اداکار ہیں۔ یہ نیچرل ایکٹرہیں اور کمال کے ایکٹر ہیں۔ بالی ووڈ کی سپر ہٹ موویز منا بھائی ایم بی بی ایس میں ڈاکٹر آستھانہ اور تھری ایڈیٹس میں پروفیسر وائرس کا کردار بومن ایرانی نےادا کئے تھے۔ لیکن ان کی لائیف سٹوری ان کی اداکاری سے کہیں زیادہ جان داراور انسپائرنگ ہے۔ یہ 35 سال کی عمر تک فٹ پاتھ کے چھوٹے سے فوٹو گرافر تھے۔ پانچ دس روپے کے لیے فوٹو بناتے تھے۔ یہ فوٹو گرافی سے پہلے نالائق طالب علم اور مکمل ناکام شخص بھی تھے۔ یہ سات سال تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کرتے رہے۔ پیسے اکٹھے ہو گئے تو یہ اپنی بیوی اور بچوں کو چھٹیوں کے لیے شملہ لے گئے۔ یہ خاندان کی پہلی چھٹیاں اور پہلا ہل سٹیشن تھا۔ بچے اور بیگم جذباتی ہو رہے تھے۔ رقم کم تھی لہٰذا یہ خاندان کو سستے ہوٹل میں لے گئے۔ ہوٹل فضول سے بھی کہیں زیادہ فضول نکلا ۔کمرے میں زیرو کا بلب لگا ہواتھا۔ باتھ روم میں پانی لیک ہو رہا تھا اور بیڈز سے بدبو آ رہی تھی۔

خاندان نے وہ رات بہت اذیت میں گزاری۔ صبح اٹھ کر بومن ایرانی نے فیصلہ کیا میری زندگی میں ایسی رات دوبارہ نہیں آئے گی۔ یہ خاندان کولے کر ممبئی واپس آ گئے اور دن رات ایک کر دیا۔ انڈیا میں اس وقت باکسنگ کا انٹرنیشنل ٹورنمنٹ ہو رہا تھا۔ یہ میچ کے مفت فوٹو گرافر بن گئے۔ یہ دن رات ہر وقت رِنگ کے دائیں بائیں رہتے تھے۔ یہ کمٹمنٹ ایسوسی ایشن کے دروازے پر دستک دیتی رہی۔ انتظامیہ کوآخر ان پر رحم آ گیا۔ پہلی اسائنمنٹ ناروے کے باکسر نے دےدی۔

بومن ایرانی نے مکے کے ساتھ اس کے چہرے سے گرتے پسینے کے قطروں کی تصویر بنانی تھی۔ یہ عام کیمرے کے ساتھ ناممکن کام تھا لیکن بومن ایرانی نے یہ کر دکھایا۔ یہ تصویریں ناروے کے میگزینز میں شائع ہوئیں۔ انہیں تین سو ڈالر معاوضہ ملا اور یہ تین سو ڈالر انہیں کام یابی کی سیڑھی پر لے آئے۔ یہ 42سال کی عمر میں فلموں کی دنیا میں آئے اور کمال کر دیا۔ منا بھائی ایم بی بی ایس ان کی پانچویں فلم تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی انہیں اس فلم کے بعد بیسٹ پرفارمنس ایوارڈملا۔

بومن ایرانی نے ایوارڈ وصول کرنے جانا تھا لیکن ان کے پاس پہننے کے لیے کوئی ڈھنگ کا سوٹ نہیں تھا لہٰذا زندگی کا پہلا سوٹ انہیں ارشد وارثی نے گفٹ کیا تھا۔ بومن ایرانی نے اپنے ایک انٹرویو میں مشہور ہونے والے نئے لوگوں کو مشورہ دیا “میں زندگی بھر لوگوں کی تصویریں بناتا رہا لیکن میرے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنواتا تھا پھر مالک نے کرم کیا اور مجھے اس قابل بنا دیا میں اس لیول پر بڑی مشکل سے پہنچا ہوں چنانچہ میں کسی کو ناں نہیں کہتا۔

لوگ سارا دن میرے ساتھ تصویریں بناتے رہتے ہیں میں ان کے ساتھ دھوپ، برسات اور ٹھنڈ میں کھڑا رہتا ہوں۔ کسی کو انکار نہیں کرتا کیونکہ یہ مالک کا خاص کرم ہے۔ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جن کے ساتھ لوگ تصویر بنوانا چاہتے ہیں۔ مالک نے ہمیں ان میں شامل کر دیا۔ یہ اس کا کرم، اس کی مہربانی ہے چنانچہ میں تصویر سے انکار کو تکبر سمجھتا ہوں۔ میں اسے کفران نعمت سمجھتا ہوں اور مالک کو تکبر پسند نہیں۔

بومن ایرانی کی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا یے زندگی میں حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔ کبھی زندگی میں ایسا موڈ بھی آتا یے جب قدرت آپ پر مہربان ہوتی یے اور آپ ذیرو سے ہیرو بن جاتے ہیں۔ مشہور ہونا کمال نہیں بلکہ اس میں خود کو تکبر سے بچائے رکھنا کمال یے۔تکبر اللہ کی چادر یے اور یہ چادر مخلوق کو زیب نہیں دیتی۔ چنانچہ زیندگی میں جب کبھی قدرت آپکو عروج بخشے تو اسکا شکر ادا کریں یہ نہ ہو وہ نعمت آپسے چھن جائے۔

Leave a Reply