Ertugrul And Ottomon Umpire ارطغرل اور خلافت عثمانیہ

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

ertugrul

خلافت عثمانیہ میں ارطغرل غازی کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے درخت میں بیج اپنا مقام رکھتا ہے۔ اِس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ خلافت عثمانیہ کی بنیاد عثمان نے رکھی تھی لیکن اس کے لیے گراؤنڈ بہرحال ارطغرل نئے بنایا تھا۔ ارطغرل انتہائی بہادر, سمجھ دار اور ماہر جنگجو تھا. والد سلیمان شاہ اس سے بہت محبت کرتا تھا. ارطغرل شکار کا رسیا تھا. یہ اپنے تین دوستوں ترگت, عبدالرحمن اور بابر کے ساتھ شکار کھیلتا رہتا تھا. ارطغرل کے یہ تینوں دوست یتیم تھے اور انہیں اس کی ماں حائمہ خاتون نے پالا تھا. وہ ارطغرل کے ساتھ پل کر جوان ہوئے تھے چنانچہ وہ اس پر جان چھڑکتے تھے۔

ارطغرل اور خلافت عثمانیہ کی بنیاد کو سمجھنے کے لیے ہمیں بارہویں صدی کے سنٹرل ایشیا کو جاننا ضروری ہے۔ سنٹرل ایشیا میں اس وقت سلجوق حکمران تھے. ان کی سلطنت آج کے ترکی پر مشتمل تھی قونیہ دارالحکومت تھا اور یہ پورا علاقہ ارض روم کہلاتا تھا. سلجوقی ریاست کے ایک طرف منگول تھے. یہ سلجوقوں کو روند کر مشرقی یورپ اور مشرق وسطیٰ تک جانا چاہتے تھے. دوسری طرف عیسائیوں کی بازنطینی ریاست تھی۔

یہ ریاست آج کے اناطولیہ کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی بلیک سی اور استنبول سے ہوتی ہوئی پورے مشرقی یورپ پر مشتمل تھی. عیسائی بھی سلجوق ریاست پر قبضہ کر کے اپنی سرحدیں چین تکلے جانا چاہتےتھے. سلجوقی ریاست کا تیسرا کونا ایوبی ریاست سے جڑا ہوا تھا. یہ حصہ شام, فلسطین اور مصر پر مشتمل تھا. جب کہ سلجوقوں کی چوتھی سمت میں ایران تھا. سلجوق دور سازشوں کا زمانہ تھا. ہر طرف جنگ چل رہی تھی اور قتل وغارت گری کا بازارگرم تھا. منگول اور بازنطینی دونوں بیت المقدس تک بھی پہنچنا چاہتے تھے لیکن دونوں کے راستے میں سلجوق اور ایوبی دو مضبوط ریاستیں کھڑی تھیں. منگول اور بازنطینی عیسائی دونوں ایوبیوں اور سلجوقوں کے خلاف اکٹھے ہو گئے. یہ دونوں کو آپس میں لڑاتے رہتے تاکہ مسلمان آپس لڑ لڑ کر کم زور ہو جائیں۔

منگول خود بھی ایوبیوں اور سلجوقوں پر حملے کرتے رہتے تھے اور بازنطینی صلیبی جنگوں کے ذریعے ایوبی ریاست پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے. لہٰذا دونوں ریاستیں باہمی اور بیرونی حملوں کی وجہ سے کم زور ہو رہی تھیں. بازنطینی اور منگولوں نے ایوبی اور سلجوق دونوں ریاستوں کے محلات میں اپنے جاسوس بھی چھوڑ رکھے تھے. یہ بادشاہوں کو محلاتی سازشوں میں الجھا کر کم زور کرتے چلے جا رہے تھے چنانچہ وہ ایک مشکل ترین دور تھا۔سلجوق بادشاہ علاؤ الدین کیکباد سلجوق ریاست کا سلطان تھا. یہ منگولوں, ایوبیوں اور محل میں موجود غداروں سے بیک وقت لڑ رہا تھا. یہ کسی اور محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے خلاف ایک اور محاذ بھی سر اٹھا رہا تھا اور وہ تھا بازنطینی حکمران. علاؤ الدین جب منگولوں یا ایوبیوں سے لڑنے کے لیے نکلتا تو اس کی پیٹھ ننگی ہو جاتی اور اس پیٹھ پر بازنطینی چھرا گھونپنا شروع کر دیتے تھے‘ وہ یک سوئی قائم رکھنے کے لیے اپنی پیٹھ بازنطینی عیسائیوں سے بچانا چاہتا تھا. لہٰذا علاؤالدین نے سلجوق اور بازنطینی ریاست کے ساتھ آغوز قبائل آباد کرنا شروع کر دیے۔

آغوز ترکوں کے بہادر قبائل تھے. یہ تعداد میں 24 تھے, قبائل کے سربراہ ”بے“ کہلاتے تھے‘ علاؤالدین سلجوق نے ان پر کنٹرول رکھنے کے لیے 24 قبائل کے سربراہوں کی ”بے مجلس“ بنا ئی اور سلجوق خاندان کے ایک شہزادے امیر سعادت کو اس کا سربراہ بنا دیا. یہ وزیر کہلاتا تھا. آغوز قبائل ریاست کے لیے دو کام کرتے تھے‘ یہ بازنطینی حملہ آوروں کا راستہ روکتے تھے اور اناطولیہ, مشرقی یورپ,‘ ایران اور فلسطین جانے والی شاہراہ ریشم کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کرتے تھے. قائی ان قبائل میں سے ایک کم زور قبیلہ تھا. یہ لوگ تعداد میں بھی کم تھے اور مال مویشیوں اور دولت میں بھی. تاہم اس کا بے سلیمان شاہ معزز اور بہادر شخص تھا۔

یہ اپنے قبیلے کے ساتھ آج کے شام کے شہر رقہ کی مضافاتی وادی میں آباد تھا. اس کے چار بیٹے تھے. ارطغرل کا نمبر دوسرا تھا

اس زمانے میں عالم اسلام میں دو عظیم صوفی دانش ور تھے. مولانا روم اور حضرت محی الدین ابن عربی. مولانا روم قونیہ میں رہتے تھے اور وہ سلجوق حکمرانوں کے روحانی استاد تھے جب کہ ابن عربی کا مدرسہ حلب شہر میں تھا. یہ دونوں صوفیاء کرام جنگوں اور تباہی کے شکار لوگوں کے ابلتے ذہنوں پر مرہم رکھتے تھے. ابن عربی باطنی علوم کے ماہر تھے. یہ ایک بار اپنے مریدوں کے ساتھ جنگل سے گزر رہے تھے. ارطغرل شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔

اس نے ہرن کے ایک بچے پر تیر چلایا. ہرن کی ٹانگ زخمی ہو گئی اور وہ دوڑ کر ابن عربی کے پاس چلا گیا. حضرت نے اس کی زخمی ٹانگ پر مرہم لگایا اور پٹی کر دی. ارطغرل اپنا زخمی شکار تلاش کرتا ہوا ابن عربی تک پہنچ گیا. حضرت نے اسے اپنے پاس بٹھایا. کھانا کھلایا. اس کی آنکھیں اور پیشانی دیکھی اور مسکرا کر فرمایا ”تمہیں جتنے ملکوں کے نام یاد ہیں تم وہ بولو“ ارطغرل کو جتنے نام آتے تھے اس نے بول دیے. حضرت نے فرمایا ”بس تمیں صرف یہ یاد ہیں“ ارطغرل نے ذہن پر زور دے کر ان میں مکہ, مدینہ اور فلسطین بھی شامل کر دیے۔حضرت ابن عربی مسکرائے اور فرمایا ”جاؤ یہ سارے ملک تمہارے ہوئے“ ارطغرل کا قبیلہ اس وقت قحط کا شکار تھا. برف باری سر پر تھی اور یہ لوگ اپنے جانوروں کے لیے خشک چارے تک کا بندوبست نہیں کر سکے تھے چنانچہ اس نے طنزیہ نظروں سے ابن عربی کی طرف دیکھا. مسکرایا اور اٹھ کر چلا گیا. ارطغرل کی ابن عربی سے دوسری ملاقات حلب شہر میں ہوئی.

اس زمانے میں اسلامی ملکوں کے اندر ایک خاموش تحریک چل رہی تھی. یہ لوگ سفید داڑھی والے کہلاتے تھے. یہ انتہائی بااثر, امیر اور باعمل مسلمان تھے. ان کا ایک مضبوط جاسوس نیٹ ورک تھا.یہ پورے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے تھے اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے. ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد تھا. اسلام اور عالم اسلام کی حفاظت. یہ اسلام کے لیے خطرہ بننے والے حکمرانوں تک کو قتل کر دیتے تھے۔

سفید داڑھی والے سلجوق, عباسی, ایوبی اور مملوک چاروں سے تنگ تھے. یہ سمجھتے تھے یہ لوگ اگر ایک دوسرے سے اسی طرح لڑتے رہے تو پھر پورے عالم اسلام پر منگول قابض ہو جائیں گے یا پھر بازنطینی اسلامی ریاستوں کو ہڑپ کر لیں گے. ان کا خیال تھا پورے عالم اسلام کو ایک ایسی مضبوط ریاست چاہیے جو عیسائیوں اور منگولوں کا مقابلہ کر سکے . یہ لوگ ابن عربی سے متاثر تھے. ابن عربی نے ارطغرل کا رابطہ ان لوگوں سے کرا دیا۔

یہ لوگ اس سے متاثر ہوئے لیکن ان کا خیال تھا یہ ابھی اتنا میچور نہیں کہ یہ کوئی ریاست بنا اور چلا سکے لہٰذا ان لوگوں نے اس کی پرورش اور تربیت شروع کر دی. اس دوران ایک اور ایشو پیدا ہو گیا.سلیمان شاہ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گیا اور بڑے بھائی نے حلیمہ سے شادی کرنے کے جرم میں ارطغرل کو قبیلے سے نکال دیا. ارطغرل بیوی کو لے کر قبیلے سے نکلا تو اس کی ماں حائمہ اور اس کے ساتھیوں نے بھی قبیلہ چھوڑ دیا۔

یہ چار سو لوگ تھے. یہ پناہ کی تلاش میں گھوڑوں پر خیمے باندھ کر دربدر پھرتے رہے. انہیں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں مل رہا تھا. یہ آخر میں دربدر کی ٹھوکروں سے تنگ آ گئے اور انہوں نے واپس جانے اور اپنے قبیلے سے معافی مانگنے کا ارادہ کر لیا. یہ واپسی کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک واقعہ پیش آیا. یہ لوگ جب کوس داگ کے قریب پہنچے تو پہاڑ کے نیچے خوف ناک جنگ چل رہی تھی.یہ لوگ رک کر جنگ دیکھنے لگے. ارطغرل کے دماغ میں اچانک خیال آیا. اس نے اپنے گھڑ سوار کو اشارہ کیا اور یہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ میں کود پڑا۔

جون کا مہینہ تھا. خوف شدت کی گرمی تھی. ارطغرل کے ساتھ صرف دو سو گھڑ سوار تھے لیکن یہ لوگ جب پہاڑ سے اترے تو یوں محسوس ہوا جیسےایک بہت بڑا لشکر اتر آیا ہے. یہ لوگ نیچے پہنچے توقائی گھڑ سواروں نے ارطغرل سے پوچھا. ہم نے کس کا ساتھ دینا ہے. ارطغرل نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”مظلوم کا“ آپ یہ جان کر حیرانی ہو گی ارطغرل اور اس کے گھڑ سواروں کو اس وقت تک بالکل یہ علم نہیں تھا جنگ کن کے درمیان ہو رہی ہے ؟ یہ لوگ میدان کے قریب پہنچ کر رکے, مظلوم کا اندازہ لگایا اور اس کی طرف سے لڑنا شروع کر دیا. یہ تازہ دم تھے. ماہر تلوار باز اور بہادر تھے لہٰذا مظلوم لشکر کو حوصلہ ہو گیا. اس کے اکھڑتے قدم جم گئے اور وہ جی جان سے لڑنے لگا یوں دیکھتے ہی دیکھتے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا. ہارتا ہوا لشکر جیت گیا اور جیتی ہوئی فوج پسپا ہو گئی. جنگ ختم ہوئی تو ارطغرل کو پتا چلا اس نے سلجوق سلطان علاؤ الدین کیقباد کی مدد کی ہے. سلجوق سلطان منگولوں کے ساتھ لڑ رہا تھا. وہ یہ جنگ تقریباً ہار چکا تھا اور اناطولیہ (ارض روم) کی سلطنت اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی لیکن پھر اچانک ارطغرل غیبی مدد بن کر پہاڑ سے اترا اور اس نے اس کا ملک بچا لیا۔

علاؤ الدین سلجوق نے ارطغرل کو بلایا. اس کا قصہ سنا. اس کی جرات اور بہادری کی داد دی. اس کا ماتھا چوما اور اس سے پوچھا ”مانگو جو مانگتے ہو‘ میں تمہیں دوں گا“ ارطغرل کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی. اس نے اپنے قبیلے کے لیے جگہ مانگ لی. سلطان نے قہقہہ لگایا اور کہا ”بس اتنی سی خواہش“ ارطغرل نے جواب دیا ”سلطان ہماری ضرورت اور اوقات اس سے زیادہ نہیں“ سلطان نے میز پر نقشہ بچھایا. چاقو سے اس پر نشان لگایا اورصغوط کا علاقہ اسے دے دیا۔آپ نے ڈرامہ سیریز ارطغرل میں قراجہ حصار , ہانلی بازار, انگول , ازنیق اور بیلک کا ذکر سنا ہو گا. یہ سارے شہر اور علاقے بازنطینی تھے اور یہ صغوط کے قریب واقع ہیں. سلطان علاؤ الدین نے اس کے بعد اسے بازنطینی شہر فتح کرنے کی اجازت بھی دے دی اور اسے اپنا مشیر خاص بھی بنا لیا۔ارطغرل کی کہانی صغوط میں پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے. وہ حقیقت میں باقی زندگی اس علاقے سے باہر نہیں نکلا اور اس نے خود کو صغوط تک محدود رکھا۔

ہانلی بازار, قراجہ حصار, انگول, ازنیق اور بیلک کو دراصل اس کے بیٹے عثمان غازی نے فتح کیا تھا.ارطغرل کے صرف دو کمال تھے. سلطان علاؤ الدین سے صغوط کی وادی حاصل کرنا اور اپنے تیسرے بیٹے عثمان کی تربیت کرنا. اس نے اپنی زندگی اپنے قبیلے اور اپنی نسل کی تربیت کے لیے وقف کر دی تھی اور وہ یہ کام 1288ء میں اپنے انتقال تک کرتا رہا. انتقال کے بعد اسے صغوط ہی میں دفن کر دیا گیا ارطغرل کی قبر آج بھی صغوط شہر میں ہے.

ارطغرل ڈرامے کی کہانی میں صرف دو فیصد حقیقت اور 98 فیصد فکشن ہے. ڈرامہ سیریز میں دکھائے گئے ارطغرل کے تینوں بیٹے قراجہ حصار کے مضافات میں قائی قبیلے کے خیموں میں پیدا ہوئے اور بیوی حلیمہ سلطان تیسرے بیٹےعثمان غازی کی پیدائش کے بعد انتقال کر گئی جب کہ حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی. ارطغرل کے تینوں بیٹے صغوط میں پیدا ہوئے تھے. یہ پہلے بیٹے گوندوزکی پیدائش سے قبل صغوط شفٹ ہو چکے تھے۔

حلیمہ سلطان نے عثمان غازی کو 67 سال کی عمر میں جنم دیا تھا. ڈرامے میں حلیمہ سلطان کو جوانی میں مرتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ یہ بڑھاپے میں فوت ہوئی تھی اور اسے صغوط میں دفنایا گیا تھا. آج بھی اس کی قبر صغوط میں ارطغرل کے مزار کے قریب ہےڈرامہ سیریز میں سعد الدین کوپیک (امیر سعادت) کا کردار بہت اہم اور طاقت ور ہے۔

سعد الدین کوپیک علاؤ الدین سلجوق اور غیاث الدین سلجوق کے دور میں اہم شخصیت تھا. اس نے سلجوق سلطنت کی تباہی میں بھی منفی کردار ادا کیا تھا. وہ انتہا درجے کا سازشی, حریص, چالاک اور منفی شخص تھا. لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ شاعر, مصور اور اعلیٰ پائے کا آرکی ٹیکٹ بھی تھا. سلطان علاؤالدین کا ذاتی محل اس نے تعمیر کیا تھا تاہم یہ درست ہے غیاث الدین سلجوق کے زمانے میں اس کا سر اتار دیا گیا تھا لیکن یہ کام ارطغرل نے نہیں کیا تھا۔

سعدالدین کو سلطان کے حکم پر قتل کر کے اس کا سر محل کی دیوار سے لٹکا دیا گیا تھا. ڈرامہ سیریز میں ارطغرل کو عالم اسلام کا بہت بڑا بلکہ سب سے بڑا ہیرو بنا کر پیش کیا گیا. یہ بات بھی تاریخی لحاظ سے درست نہیں ہے کیوں کہ ارطغرل کا تاریخ میں سلطان سے صغوط کی وادی حاصل کرنے اور ابن عربی کی دعا کے علاوہ کوئی اہم کارنامہ نہیں تھا. سلطنت عثمانیہ آہستہ آہستہ معرض وجود میں آئی تھی اور اصل کمالات سلطان محمد فاتح, سلطان سلیم اول اور سلطان سلیمان نے کیئےتھے. یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے صغوط کی چھوٹی سی وادی اور تین ہزار لشکریوں کو دنیا کی عظیم خلافت بنا دیا تاہم یہ بھی سچ ہے اگر ارطغرل نہ ہوتا تو شاید خلافت عثمانیہ بھی نہ ہوتی۔

خلافت عثمانیہ کا اصل بانی ارطغرل کا پوتااور عثمان غازی کا بیٹا اورخان تھا. ترک اسے آرخان بھی کہتے ہیں. وہ 1281ء میں صغوط میں پیدا ہوا اور اس کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا. ارطغرل اسے اپنی جوانی کی مہمات کے قصے سناتا رہتا تھا. وہ زمین پر تلوار سے دنیا کا نقشہ بناتا تھا. ابن عربی کی پیش گوئی سناتا تھا اور پھر اورخان سے کہتا تھا ” تم نے یہ سارے شہر فتح اور میرے نام کے سکے جاری کرنے ہیں. تم اگر یہ نہ کر سکو تو تم اپنے بیٹوں کو میری قبر پر لا کر انہیں بتانا یہاں ایک ایسا شخص سو رہا ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کاخواب دیکھا تھا“۔اورخان نے یہ بات پلے باندھ لی ارطغرل 1288ء میں انتقال کر گیا. اورخان کی عمر اس وقت سات سال تھی. وہ جوان ہونے تک روز دادا کی قبر پر حاضری دیتا اور قبر پر کھڑے ہو کردادا کا خواب دہراتا . وہ عثمان غازی کے ساتھ مل کر صغوط کے دائیں بائیں موجود قلعے بھی فتح کرتا رہا. سن 1300ء میں علاقے کی چاروں بڑی ریاستیں زوال پذیر ہو گئی تھیں. سلجوق ریاست ختم ہو گئی, ایوبی سلطنت کم زور ہورہی تھی, بازنطینی ایمپائر کی اینٹیں بھی گر رہی تھیں اور منگولوں کا طوفان بھی سمٹ کر چین تک محدود ہو گیا تھا. ایشیا کوچک میں اس وقت گرے ہوئے قلعوں, خاک اڑاتے شہروں اور بکھرتے محلات کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن اسی خون آشام دور میں دو نئی طاقتیں پیدا ہو گئیں. ازبکستان میں امیر تیمور اور ترکی میں ارطغرل کا خاندان سر اٹھانے لگا. امیر تیمور اور آرخان دونوں کے دور میں زیادہ فرق نہیں. امیر تیمور نے اورخان کے پوتے بایزید یلدرم کو 1402ء میں انگورہ (انقرا) میں شکست دی تھی. یہ دونوں طاقتیں بحران میں ابھریں اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے عروج حاصل کر لیا۔اورخان نے 1326ء میں عثمان غازی کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا. عثمانی سلطنت اس وقت صغوط سے شروع ہوتی تھی اور سو کلو میٹر بعد بورسا پہنچ کر ختم ہو جاتی تھی لیکن اورخان نے اس کے باوجود نہ صرف اپنا سکہ جاری کیا بلکہ اپنی ریاست کا آئین, قانون اور بیوروکریٹک سسٹم بھی بنایا۔

یہ اورخان تھا جس نے اپنے دادا ارطغرل کی داستان لکھوائی اور اس کے نام کا سکہ جاری کی اورخان نے بورسا کے بعد ازنیق, ازمیت اور کاراسی کے قلعے فتح کر لیے. آپ نے ارطغرل سیریز میں بار بار نکوسیااور نومیدیا کا ذکر سنا ہو گا۔
نکوسیا آج کل سائپرس کا دارالحکومت ہے جبکہ نکومیدیا یونان کا شہر تھا. دونوں شہر چودھویں صدی میں اہم اور بڑے ہوتے تھے. اورخان نے یہ بھی فتح کر لیے. یہ اس کے بعد سابق سلجوق ریاست کے شمال مشرقی علاقوں کی طرف بڑھا اور آدھا اناطولیہ بھی لے لیا اور پھر یہ آج کے ترکمانستان کی طرف مڑ گیا اور اس کا خاصا حصہ بھی قابو کر لیا. بازنطینی حکومت اس سے گھبراتی تھی چنانچہ بازنطینی بادشاہ جان ششم نے اس کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور اپنی صاحبزادی تھیوڈورا اس کے عقد میں دے دی۔

اس نے گیلی پولی اور انقرا بھی فتح کر لیے. اس نے گورننس کا اپنا ایک ماڈل بھی تخلیق کیا تھااس نے بے شمار مسجدیں, مدرسے اور کاروان سرائے بنوائے اور وہ ایشیا کوچک کا پہلا حکمران تھا جس نے بورسا میں یونیورسٹی بنائی تھی. اورخان کے بعد اس کا بیٹا مراد اول سلطان بنا اور اس نے سلطنت عثمانیہ کو حقیقتاً سلطنت عثمانیہ بنا دیا. مراد 30 سال حکمران رہا. وہ ان 30 برسوں میں 24 سال میدان جنگ میں رہا. اس کا ریکارڈ تھا اس نے کوئی جنگ نہیں ہاری تھی. اس نے بلغاریہ, سربیا اور مقدونیہ فتح کر لیے. اس کی آخری جنگ کوسوو میں ہوئی تھی اور پورے یورپ کی فوجیں اکٹھی ہو کر اس کے مقابلے کے لیے میدان میں اتری تھیں لیکن اس نے اس مشترکہ فوج کو بھی خاک چٹوا دی۔

وہ 1389ء میں کوسوو کی جنگ کے دوران زخمی ہو کر انتقال کر گیا. مراد اول کے مرنے کی خبر پھیلی تو پورے یورپ میں جشن منایا گیا اور تمام کلیساؤں کی گھنٹیاں بجائی گئیں. مراد اول نے عثمانی سلطنت کے رقبے میں پانچ گنا اضافہ کیا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے چار نسلوں کی فتوحات کے باوجود مراد اول کے انتقال تک سلطنت عثمانیہ صرف 20 ہزار مربع کلو میٹر پر محیط تھی اور یہ رقبہ آج کے راولپنڈی ڈویژن سے بھی کم تھا. یہ تھی سلطنت عثمانیہ, چار نسلوں کے بعد کی سلطنت عثمانیہ۔

سلطنت عثمانیہ کی رگوں میں ارطغرل کی 18 نسلوں اور 36 سلطانوں کا لہو شامل ہوا اور پھر کہیں جا کر ارطغرل آج کی نسل تک پہنچا. پھر کہیں جا کر دنیا نے تسلیم کیا . ترک صرف ترک ہوتے ہیں. نپولین بونا پارٹ نے ارطغرل کی نسل کے بارے میں کہا تھا. دنیا کی ہر فوج کسی نہ کسی کے سٹائل میں لڑتی ہے لیکن ترک صرف اور صرف ترکوں کے سٹائل میں لڑتے ہیں۔

ارطغرل کی نسل نے صرف تلواروں اور گھوڑوں میں کمال نہیں کیا بلکہ اس نے دنیا کو بیوروکریسی, آرکی ٹیکچر, لائف سٹائل اور فوج سازی کا ماڈرن فن بھی دیا. عثمانی سلطان مشرقی یورپ کے عیسائی بچوں کو گود لے لیتے تھے. یہ ان بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے اور جب یہ بڑے ہو جاتے تو انہیں بیورو کریسی میں شامل کر دیتے تھے. یہ بچے رشتے داروں کی مجبوریوں سے پاک ہوتے تھے چنانچہ یہ پوری زندگی کرپشن فری رہتے تھے۔آپ اللہ کا انعام دیکھیے. ارطغرل کے پاس خیمہ لگانے اور گھوڑا باندھنے کی جگہ نہیں تھی لیکن پھر اس کی نسل میں ایک ایسا وقت آیا جب تین براعظموں پر ان کی حکومت تھی. ان کا جھنڈا چین اور روس کی سرحد سے لے کر ویانا اور ایران, عراق, سعودی عرب اور شام سے ہوتا ہوا مصر تک جاتا تھا. ارطغرل کی نسل کے ایک بادشاہ سلیمان دی گریٹ کی سلطنت 20 لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھی.یہ ہوتی ہے اللہ کی عطا. اسے کہتے ہیں اللہ جب رحم کرنے پر آتا ہے تو پھر یہ چرواہوں کی نسلوں کو قوموں کا تاج بنا دیتا ہے. یہ پھر عروج کو بھی اتنا عروج دیتا ہے کہ عروج کو بھی پسینہ آ جاتا ہے

Leave a Reply