Hazrat Abu Ubaida R.A حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:1 Comment

Hazrat Abu Ubaida R.A حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ

حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ قریشی تھے۔ ۔حضرت ابوبکر صدیقؓ سےاگلے ہی دن اسلام قبول کیا۔ اور پھر ساری زندگی رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے لیے وقف کر دی۔رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ،آپؓ حبشہ چلے گئے۔آپؐ نے واپس بلایا۔ واپس آ گئے۔ مدینہ کی طرف رخ موڑا۔ آپؓ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ غزوہ بدر کا وقت آیا والد کفار کی طرف سے سامنے آیا۔ تلوار کا وار کیا اور اپنے والد کو قتل کر دیا۔ یہ قربانی ایسی قربانی تھی کہ قرآن مجید کی آیت اتری اور یہ کارنامہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
آپؓ نے نبی اکرمؐ کے ساتھ ہرغزوہ میں شرکت کی۔ آپؐ کے حکم پر ہر جنگ میں بھی شریک ہوئے اور کامیاب بھی لوٹے۔ وہ رسول اللہﷺ کے ان دس ساتھیوں (عشرہ مبشرہ) میں شامل تھے جنہیں زندگی میں جنت کی بشارت دی گئی تھی۔آپؓ عالم اسلام کا دماغ بھی تھے اور دل بھی۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں سپہ سالار تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ ان کی سادگی اور جرات کے مداح تھے۔ حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو حضرت ابوعبیدہؓ کو اسلامی لشکر کا سپریم کمانڈر بنا دیا۔ آپؓ کی کمان میں مسلمانوں نے قیصر اور کسریٰ کی ساری سلطنت روند کر رکھ دی۔ بیت المقدس تک بھی فتح کر لیا۔ وہ آخر میں شام اور موجودہ اردن کے علاقے فتح کر رہے تھے۔اسلامی لشکر کا بڑا حصہ ان کی کمان میں تھا لیکن پھر شام اور عراق میں قحط پڑ گیا۔ فوج کشی بند کی اور لوگوں کو قحط اور خشک سالی سے نکالنے میں مصروف ہو گئے۔ قحط ابھی رکا نہیں تھا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ لشکر حمص میں تھا۔ آپؓ نے خود کو چھاؤنی تک محدود کر لیا۔ حضرت عمر فاروقؓ شام کے دورے پر آئے۔ سرحد تک پہنچے تو طاعون پھیلنے کی اطلاع ملی۔ آپؓ نے واپسی کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر حمص پہنچی تو گھوڑے پر بیٹھے اور سیدھے خلیفہ کے سامنے پیش ہو گئے۔ مسکرا کر خلیفہ کو دیکھا اور کہا “عمرؓ تم اللہ کی رضا سے بھاگ رہے ہو” حضرت عمرؓ نے ان کی طرف دیکھا۔ تھوڑی دیر سوچا اور پھر فرمایا “یہ بات اگر تمہاری جگہ کوئی اور کرتا تو مجھے قطعاً افسوس نہ ہوتا”۔

پھر فرمایا “ہاں میں اللہ کی رضا سے بھاگ رہا ہوں لیکن اللہ کی رضا کی طرف” حضرت عمر فاروقؓ نے یہ بھی فرمایا “رسول اللہ ﷺ نے وبا کے علاقے میں داخل ہونے سے منع فرمایا تھا” حضرت عمرؓ نے انہیں مدینہ چلنے کا مشورہ دیا لیکن وہ مصیبت کی گھڑی میں اپنی فوج کو اکیلا چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور حمص واپس لوٹ گئے۔ طاعون حمص پہنچ گیا۔ اسلامی فوج میں داخل ہوا اور سپاہی تیزی سے انتقال فرمانے لگے۔ حضرت عمر فاروقؓ انہیں ہر صورت بچانا چاہتے تھے۔

ان کا خیال تھا پورے عالم اسلام میں ان جیسا تجربہ کار اور سمجھ دار شخص نہیں لہٰذا خلیفہ نے انہیں خط لکھ دیا۔ وہ خط، خط نہیں حکم تھا اور اس حکم میں خلیفہ نے فرمایا تھا “یہ خط اگر تم رات کو پاؤ تو صبح سے پہلے روانہ ہو جاؤ اور اگر تمہیں یہ خط دن کو ملے تو شام سے پہلے مدینہ کی طرف روانہ ہو جاؤ۔ مجھے تمہاری فوری اور اشد ضرورت ہے” وہ خلیفہ کی نیت سے واقف تھے۔ وہ جانتے تھے خلیفہ انہیں بچانا چاہتے ہیں لہٰذا خلیفہ کو جواب لکھ دیا”میں جانتا ہوں آپؓ مجھے کیوں بلا رہے ہیں لیکن میں ان حالات میں اپنا لشکر نہیں چھوڑ سکتا”۔

ساتھ ہی اس حدیث کا دوسرا حصہ لکھ بھیجا۔ جوحضرت عمر فاروقؓ نے انہیں سنائی تھی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا “اگر کسی علاقے میں وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے ہرگز نہ نکلو” حضرت عمرؓ نے خط پڑھا توآنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دیکھنے والوں نے پوچھا “کیا ابوعبیدہؓ انتقال فرما گئے ہیں”۔ جواب دیا نہیں ابھی نہیں لیکن جلد فرما جائیں گے”۔ آپؓ واحد صحابی تھے جنہیں حضرت عمرؓ نے خط لکھ کر موت سے بھاگنے کی دعوت دی تھی لیکن آپؓ نے چین آف کمانڈ پر یقین کے باوجود خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور یہ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری انکار تھا۔

انکار سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے اور جوابی خط لکھا “اللہ کے بندے پھر مہربانی کرو اور کسی اونچی جگہ پر منتقل ہو جاؤ”۔ یہ حکم مان لیا اور حمص سے نکل کر جابیہ چلے گئے۔ یہ علاقہ وادی اردن اور گولڈن ہائیٹس کے درمیان واقع ہے۔ صحت بخش مقام ہے لیکن موت ان کے تعاقب میں تھی۔ 639ء میں طاعون کی لپیٹ میں آئے۔ چنددن بیمار رہے اور بیماری کے عالم میں انتقال فرما گئے۔ آپؓ کے بعد ابن جبل نے فوج کی کمان سنبھال لی اور چند دن بعد وہ بھی طاعون کا شکار ہو گئے اور اس کے بعد لائین لگ گئی۔

اسلامی لشکر کے آدھے جوان وبا کا شکار ہو گئے۔ ان میں بے شمار جید صحابہؓ بھی شامل تھے۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ کو جابیہ میں دفن کردیا گیا۔ امیر تیمور نے جب اردن فتح کیاتو وہ جابیہ پہنچا۔ آپؓ کا مزار دیکھا۔ حالت اچھی نہیں تھی۔ وہ آپؓ کا تابوت اٹھا کر ازبکستان لے گیا۔ قرشی شہر میں شان دار مزار بنایا اور آپؓ کو وہاں دفن کر دیا۔

حضرت عمر فاروقؓ کی واپسی اور حضرت ابوعبیدہ ؓ کا انکار یہ ثابت کرتا ایمان ایک چیز ہے۔موت بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن زندگی کی حفاظت انسان کا سب سے بڑا فرض ہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق اورحضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ دونوں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے۔ وبا کے علاقے میں داخل نہ ہوں اور اگر وبا کے علاقے میں ہیں تو اس سے باہر نہ نکلیں حتیٰ کہ مدینہ بھی نہ جائیں کیوں کہ ہم کچھ بھی ہو جائیں ہم حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ؓ سے بڑے عاشق رسول ؐ نہیں ہو سکتے اور آپؓ نے بیماری کے خدشے سے اس رسولؐ کے شہر جانے سے بھی انکار کر دیا تھا جس کی خوشی کے لیے آپؓ نے اپنے سگے والد کا سر بھی اتار دیا تھا۔
وبائیں امتحان ہوتی ہیں اور امتحان صرف صبر، برداشت اور حوصلے سے دیے جاتے ہیں۔

This Post Has One Comment

  1. Faheem

    Informative article

Leave a Reply