Magnanimous اعلیٰ ظرف

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Magnanimous اعلیٰ ظرف

عرسوف کی آبادی 166 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ گاﺅں میڈی ٹیرین سی کے ساتھ چٹان پر قائم ہے۔ عرسوف، اسرائیل کا سب سے چھوٹا گاﺅں ہے۔ لیکن اپنی لوکیشن اور تاریخ کی وجہ سے اسرائیل کے مہنگے ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ گاﺅں میں صرف امراءرہتے ہیں۔ تمام گھروں کی کھڑکیاں اور صحن سمندر کی طرف کھلتے ہیں اور پائیں باغ یوروشلم اور مقبوضہ بیت المقدس کی ہواﺅں سے معطر رہتے ہیں۔ عرسوف تیسری صلیبی جنگ کی وجہ سے تاریخ کا ان مٹ جزو ہے اور یہ جزو پچھلے ہزار سال سے دنیا کی فوجی اکیڈمیوں میں پڑھا اور پڑھایا جارہا ہے۔

تیسری صلیبی جنگ، انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ اول اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان لڑی گئی تھی۔رچرڈ 1157ءمیں پیدا ہوا تھا۔ 1189ءمیں برطانیہ اور فرانس کا بادشاہ بنا تھا۔ اسے بہادری، شجاعت اور عسکری ذہانت کی وجہ سے “رچرڈ دی لائن ہارٹ شیردل” کا خطاب دیا گیا تھا۔ یہ گریٹ ملٹری لیڈروں کی فہرست میں بھی شامل تھا۔ 16 سال کی عمر میں کمانڈ شروع کی اور اپنی بہادری سے دشمنوں کا دل موہ لیا۔

وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا تھا۔کیونکہ سلطان نے یوروشلم کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ چنانچہ وہ 1191ءمیں سلطان کو شکست دینے اور یوروشلم پر قبضے کے لیے عرسوف پہنچ گیا۔ سلطان بھی لشکر لے کر ساحل تک آ گیا۔ جنگ شروع ہوئی اور مہینوں جاری رہی۔ عیسائی لشکر نے صلیبیں اٹھا رکھی تھیں جب کہ مسلمان ہلال اور کلمے کا پرچم اٹھا کر لڑ رہے تھے۔ یہ عالم اسلام اور مسیحی دنیا کی سب سے بڑی جنگ تھی۔ مورخین کا خیال ہے چوتھی صلیبی جنگ بھی ہو گی اور یہ دنیا کی آخری جنگ ہو گی۔ آپ کو یاد ہو گا نائین الیون کے دن صدر جارج بش نے چوتھی صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا تھا لیکن بعد ازاں امریکا اور یورپ کے دباﺅ پر اپنا بیان واپس لینے پر مجبور ہو گیا۔ ہم تیسری صلیبی جنگ کی طرف واپس آتے ہیں۔ جنگ کے دوران دو ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے یہ جنگ اور سلطان صلاح الدین ایوبی ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

آج بھی تاریخ کے طالب علموں کو عرسوف کا نام یاد نہیں ہو گا۔ رچرڈ دی لائن ہارٹ نے کون سی صلیبی جنگ لڑی تھی لوگ یہ بھی بھول جاتے ہیں مگر جنگ کے دونوں واقعات ہزار سال سے لوگوں کی یادداشت کا حصہ ہیں۔ پہلا واقعہ رچرڈ کی بیماری تھی۔ مسیحی فوج کا کمانڈر جنگ کے دوران بیمار ہو گیا۔ یہ خبر صلاح الدین ایوبی تک پہنچی توسلطان نے رچرڈ کے صحت یاب ہونے تک جنگ بھی روک دی اور اسے پھلوں اور ادویات کے تحفے کے ساتھ ساتھ اپنا خاص طبیب بھی بھجوایا تا کہ وہ جلد صحتیاب ہو سکے۔ مسیحی فوج یہ سلوک دیکھ کر حیران رہ گئی۔

دوسرا واقعہ پہلے واقعے سے بھی زیادہ دل چسپ اور سبق آموز تھا۔ جنگ کے دوران رچرڈ کا گھوڑا گر کر مر گیا۔ وہ گھوڑے سے نیچے گر گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ سلطان نے اسے نہ صرف اپنا گھوڑا بھجوایا بلکہ اسے اپنے جوانوں کی حفاظت میں اس کے سپاہیوں کے درمیان بھی پہنچا دیا۔ آپ اندازہ کیجیئے۔ سلطان یہ سلوک کس کے ساتھ کر رہا ہے؟ اپنے اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن کے ساتھ۔ اس شخص کے ساتھ جو اسے قتل کرنے اور بیت المقدس پر قبضے کے لیے آیا تھا۔

یہ سلوک بعد ازاں دونوں فوجوں کو معاہدے کی طرف لے گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اور رچرڈ شیردل کے درمیان 1192ءمیں “معاہدہ رملا” ہوا مسیحی فوج نے بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ تسلیم کر لیا اور سلطان نے عیسائیوں کو یوروشلم میں آنے اور عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں تیسری صلیبی جنگ ختم ہو گئی لیکن دشمن کے ساتھ اعلیٰ ظرفی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔ہم انسان کتنے بڑے، کتنے اعلیٰ ظرف ہیں یہ فیصلہ ہمارے دوست، ہمارے رشتے دار نہیں بلکہ ہمارے دشمن اور ہمارے مخالف کرتے ہیں۔

دنیا کا برے سے برا انسان بھی اپنے عزیزوں، رشتے داروں اور دوستوں کے ساتھ اچھا ہوتا ہے۔ سانپ اور مگرمچھ بھی اپنے بچوں اور اپنے قبیلے کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم کتنے اچھے یا کتنے اعلیٰ ظرف ہیں اس کا فیصلہ ہمارے دوست نہیں ہمارے دشمن اور دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک کرتا ہے۔ نبی اکرم ؑ نے پوری زندگی اپنے صحابہؓ کے ساتھ شفقت اور مہربانی فرمائی۔ یہ مہربانی اور یہ شفقت اتنا بڑا واقعہ نہ بن سکی جتنا بڑا واقعہ اس بڑھیا کی تیمار داری بنا جو روز آپؑ پر کوڑا پھینکتی تھی۔

ہمارے رسولؑ نے کئی خواتین کے لیے اپنی چادر بچھائی مگر آپ نے جب حاتم طائی کی کافر بیٹی کو اپنی چادر پر بٹھایایا اپنے محسن ،اپنے دوست، اپنے چچا حضرت امیر حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کے گھر کو دارالامان قرار دیا اور ینکو شہید کرنے والے وحشی کو معاف کر دیا تو تاریخ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ ہماری پوری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے. اسلامی دنیا کے بے شمار حکمرانوں نے اس وقت اپنی تلواریں واپس کھینچ لیں جب انہوں نے اپنے دشمن کو بیمار یا بے بس پایا۔ یہی اسلام کا امتیاز اور اسکے پھیلنے کی وجہ ہے۔

پورس اور سکندراعظم دونوں غیر مسلم تھے۔ سکندر دیوتاﺅں کو پوجتا تھا جب کہ پورس بتوں کو خدا مانتا تھا مگر آپ اعلیٰ ظرفی دیکھیے جب پورس کو زنجیروں میں باندھ کر سکندراعظم کے سامنے کھڑا کیا گیا اور سکندر نے پورس سے پوچھا “بتامیں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں” تو پورس نے ہنس کر جواب دیا “وہ سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں” اور سکندر نے اس کی زنجیریں کھلوا کر اسے اپنے ساتھ بھی بٹھایا اور اسے اس کی سلطنت بھی واپس کر دی اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیے پورس وہ شخص تھا جس نے سکندراعظم کی آدھی فوج مار دی تھی۔

جو سکندر کا وہ آخری حریف تھا جس نے اس کا پوری دنیا فتح کرنے کا خواب توڑ دیا تھا اور سکندر جہلم سے یونان کی طرف واپس لوٹنے پر مجبور ہو گیا۔ اعلیٰ ظرف لوگ دشمنوں کے ساتھ اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ورنہ دوستوں کے ساتھ تو شیطان بھی قطب ہوتا ہے۔لہٰذا ہمیں اپنے رویوں میں لچک رکھنی چاییے جسکی تعریف ہمارے دوست ہی نہیں ہمارے دشمن بھی کریں۔

Leave a Reply