Miracles Of Tourism سفر اور سیاحت کا کمال

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Miracles Of Tourism سفر اور سیاحت کا کمال

سفر اور سیاحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے آیئے تاریخ کی دو شخصیات کی ذندگی پر نظر ڈالتے ہیں۔آپ ابن بطوطہ اور مارکو پولو کے نام سے ضرور واقف ہو نگے۔ یہ کون تھے؟ یہ عام سے بھی زیادہ عام انسان تھے۔ ابن بطوطہ طنجہ کا رہنے والا تھا۔ شکل و صورت کے لحاظ سے سیاہ فام تھا۔ مالی حالت بھی اچھی نہیں تھی۔ وہ ایک کمرے کے مکان میں رہتا تھا۔ تعلیم بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ کوئی کام آتا نہیں تھا۔ جسمانی کم زوری کی وجہ سے فوج میں بھی بھرتی نہ ہو سکا۔ 1325ء میں پیدل حج پر روانہ ہوا تو خاندان نے شکر ادا کیا نکھٹو شخص سے جان چھوٹی۔ ابن بطوطہ 24سال تک سفر کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں میں پھرتا رہا۔یاد رہے تب سفر طویل اور بہت دشوار گزار ہوتے تھے۔ 1349میں جب طنجہ واپس آیا تو یہ نکارہ شخص معلومات اور علم کا خزانہ تھا۔

بادشاہ اسے اپنے پاس بٹھاتے تھے اور مراکو کے رؤساء علم کے لیے اپنے بچے اس کے پاس بھجواتے تھے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ قیروان میں پروفیسر بھی بنا دیا گیا۔ ابن بطوطہ اپنے انتقال تک لوگوں کو علم کا خزانہ بانٹتا رہا۔ اور یہ مرنے کے 643برس بعد بھی طنجہ کی پہچان ہے۔ لوگ مراکو کو بھی ابن بطوطہ کا مراکو کہتے ہیں۔ ابن بطوطہ کو یہ علم یہ مرتبہ، یہ عزت کہاں سے ملی؟ اللہ کے کرم کے بعد اس کا واحد ذریعہ سفر تھا۔ یہ اگر سیاحت نہ کرتا تو یہ طنجہ کے ہزاروں لوگوں کے ساتھ گم نام مر جاتا اور آج اس کی داستان تک نہ ہوتی داستانوں میں۔

مارکو پولو بھی اس حقیقت کی ایک اور شان دار مثال ہے۔ یہ وینس کا رہنے والا تھا۔ اسکی شہر کے مضافات میں چھوٹی سی دکان تھی۔ والدنکولو پولواور چچا میفیو پولوتاجر تھے۔ یہ تجارت کے سلسلے میں دوسرے علاقوں میں جاتے رہتے تھے۔ یہ 1260میں سفر پر روانہ ہوئے اور 9برس بعد واپس آئے۔ مارکو پولو نے ان سے سفر کی داستانیں سنیں تو اس نے بھی ان کے ساتھ روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ نالائق ہونے کے ساتھ ساتھ سست اور کند ذہن بھی تھا۔ لہٰذا وہ سفر کے دوران والد کی ڈانٹ سنتا رہتا تھا۔ والد نے اسے چین کے بادشاہ قبلائی خان کے پاس گروی بھی رکھ دیا۔ لیکن یہ نالائق شخص بعدازاں پوری دنیا میں وینس کی نشانی بن گیا۔ وینس آج اپنی پانی کی گلیوں اور گنڈولوں سے اتنا نہیں پہچانا جاتا۔ جتنا یہ مارکو پولو کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ بھی عالموں کا عالم بنا اور اس پر بھی ہزاروں کتابیں اور مقالے لکھے گئے۔ مارکو پولو کے دور کے تاجر، رئیس حتیٰ کہ بادشاہ تک فنا ہو گئے۔ ان کے محل، جائیدادیں اور جاگیریں بھی ختم ہو گئیں اور ان کے نام بھی تاریخ کی کتابوں سے اڑ گئے لیکن مارکو پولو اور اس کا گھر آج بھی سلامت ہے۔

وگ آج بھی گنڈولوں میں بیٹھ کر وینس کی گلیوں میں مارکو پولو کو یاد کرتے ہیں اور اس کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر سیلفیز بنواتے ہیں۔ یہ ہے سفر اور سیاحت کا کمال۔ یہ آپ کو علم بھی دیتی ہے، عزت بھی، شہرت بھی، رزق بھی اور مرتبہ بھی۔ یہ آپ کو بادشاہوں کا بادشاہ اور پروفیسروں کا پروفیسر بنا دیتی ہے۔ سیاحت علم کا بہترین سورس ہے۔ آپ سفر کی عادت ڈال لیں۔ آپ کے پاس لائبریریوں سے زیادہ علم جمع ہو جائے گا۔
آج سے 50 سال پیچھے چلے جایُیں برصغیر پاک و ہند میں لڑکی کا رشتہ کرتے وقت لڑکے سے باقاعدہ پوچھتے تھے اس نے سفر کتنا کیا یے۔

عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے “السفر وسیلۃ الظفر” یعنی “سفرکامیابی کا ذریعہ یے”۔ سفر آپ کو کچھ بھی نہ دے تو بھی یہ آپ کو یہ ضرور بتا دیتا ہے آپ کتنے صحت مند ہیں۔ یہ آپ کی میڈیکل رپورٹ، آپ کا میڈیکل ٹیسٹ ضرورت ثابت ہوتا ہے اور یہ سفر کا سب سے چھوٹا تحفہ ہے۔

میری آپ سے درخواست یے۔ اللہ کی زمین اور اللہ کی دنیا دیکھیں۔ آپ کو پھر اپنے قد، کاٹھ اور حماقتوں کا اندازہ ہو گا ورنہ آپ بھی اپنے بزرگوں کی طرح کنوئیں کا مینڈک بن کر مر جائیں گے اور آپ کے بچے بھی اسی طرح کنوئیں کو کائنات سمجھ کر اکڑتے رہیں گے۔ آپ بے شک ابن بطوطہ یا مارکوپولو نہ بنیں لیکن آپ کم از کم انسان تو بن جائیں۔آپ کم از کم مینڈک جیسی زندگی تو نہ گزاریں۔

Leave a Reply