Mount Sinai کوہ طور

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Mount Sinai کوہ طور

کوہ طور پہاڑ کے مقدس ہونے کے لیے یہ بہت بڑی دلیل یے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی قسم کھائی یے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو دنیا سے پردہ فرمائے تین ہزار دو سو سال گزر چکے ہیں۔ لیکن یہ پہاڑ تب سے مقدس چلا آ رہا ہے۔ زائرین تین ہزارسال سے کوہ طور پر ننگے پاؤں آتے رہے۔ سفر انتہائی مشکل اور دشوار گزار ہوتا تھا۔ پتھر بھی نوکیلے تھے۔ چنانچہ زیادہ تر زائرین کے پاؤں زخمی ہو جاتے تھے۔ سفر خطرناک ہونے کیوجہ سے لوگ پہاڑ سے گر کر مر بھی جاتے تھے۔ یوں ہر سال سیکڑوں لوگوں کی جان چلی جاتی تھی۔

تقریباً سو سال قبل عیسائی، یہودی اور مسلمان علماء اکٹھے ہوئے اور زائرین کو جوتوں سمیت پہاڑ پر چڑھنے کی اجازت دے دی۔ یوں یہ سفرنسبتاً آسان ہو گیا۔ دوسری آسانی سینٹ کیتھرائن کے کسی نامعلوم درویش نے پیدا کی۔ اس نے اکیلے پہاڑ تراشا اور زائرین کے لیے سیڑھیاں بنا دیں۔ اس ایک شخص نے 25 سال دن رات محنت کر کے 3750 سیڑھیاں بنائیں۔ طور کے دامن میں عربی بدو آباد ہیں۔ انہوں نے ہر کلومیٹر بعدپہاڑ پر قہوہ خانے بنا رکھے ہیں۔ یہ کچے کوٹھے ہیں لیکن یہ زائرین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ آخری چائے خانے میں کرائے پر کمبل بھی مل جاتے ہیں۔ لوگ کمبل اوڑھ کر چائے خانے کے کونوں میں دبک جاتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔

کمبل اوڑھ کر کوہ طور پر سونے کی یہودی روایت کافی پرانی ہے۔ جوڑے شادی کے فوراً بعد کوہ طور پر آتےہیں۔ اور اپنی پہلی رات طور کے راستے میں کمبل کے اندر گزارتےہیں۔ ان کے نزدیک یہ عمل صالح اولاد کا سبب بنتا ہے۔ کوہ طور دنیا کا وہ واحد مقام ہے جہاں تینوں آسمانی مذاہب کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی بندہ رہتا ہے اور نہ کوئی بندہ نواز لیکن جوں جوں سورج چڑھتا ہے اور لوگ طور سے نیچے اترتے ہیں۔ یہ دوبارہ یہودی،عیسائی اور مسلمان میں تقسیم ہوتے جاتے ہیں۔ اور دوبارہ سے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ صرف کوہ طور کی برکت ہے چند لمحوں کے لیے تینوں مذاہب کے درمیان موجود دیواریں گرجاتی ہیں اور اللہ کے بندے صرف اللہ کے بندے بن جاتے ہیں۔

طور سے واپسی کا سفر چڑھائی سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ زائرین کھلی آنکھوں سے خطرناک سیڑھیاں اور ہولناک گھاٹیاں دیکھتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور یو جاتے ہیں کہ کیا کل رات ہم اس مقام سے بھی گزرے تھے اور یہ سوچ کر ان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ پورے پہاڑ پر گھاس کا تنکا تک نظر نہیں آتا۔

صبح آٹھ بجے ہی گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔ لوگ جیکٹس اور مفلر اتارتے چلے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں بتاتے ہیں۔ کوہ طور کا سیزن نومبر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل میں ختم ہو جاتا ہے۔ باقی چھ ماہ رات کے وقت بھی ناقابل برداشت گرمی ہوتی ہے۔ پہاڑوں پر چڑھائی مشکل ہوتی ہے اور اترائی مشکل ترین۔ کوہ طور دنیا کے تمام پہاڑوں سے اس معاملے میں بھی آگے ہے۔اس کی اترائی گھٹنوں اور کمر کا سیدھا سیدھا قتل ہوتاہے۔

سینٹ کیتھرائن کوہ طور کے دامن میں ہے۔ یہ درگاہ چوتھی صدی عیسوی میں عیسائی پادریوں نے بنائی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ پر پہلی وحی یہاں اتری تھی۔ آپؑ آگ لینے کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ وہ جھاڑی آج تک قائم ہے جس میں آپؑ کو آگ دکھائی دی تھی۔

آپؑ نے جس مقام پر اللہ کے حکم سے جوتے اتارے تھے۔ وہ بھی موجود ہے۔چرچ کی انتظامیہ نے وہاں لکڑی کی رکاوٹ لگا کر راستہ بند کر دیا ہے۔ لوگ اس سے آگے نہیں جا سکتے۔ سامنے پتھر کا پلیٹ فارم ہے اور پلیٹ فارم کے اندر سے وہ جھاڑی باہر لٹک رہی ہے جہاں سے حضرت موسیٰ ؑکو ندائے خداوندی سنائی دی تھی۔ یہ جھاڑی 33 سو سال سے ہری بھری ہے۔ نباتات کے ماہرین نے اس کے مختلف حصے دنیا کے مختلف خطوں میں کاشت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ناکام رہے۔

یہ دنیا کی کسی زمین پر کاشت نہ ہو سکی۔ آخری کوشش میں اس کی قلم جھاڑی سے چند فٹ کے فاصلے پر بودی گئی۔ پودہ نکل آیا لیکن وہ جھاڑی سے بالکل مختلف تھا۔ نباتاتی سائنس دانوں نے اس کے بعد جھاڑی کو معجزہ تسلیم کر لیا اور مزید کوشش ترک کر دی۔ یہودی تین ہزار سال سے جھاڑی کی زیارت کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ قریب ہی حضرت موسیٰ ؑ سے منسوب کنواں بھی ہے۔ مقامی لوگ اسے وہ کنواں کہتے ہیں جہاں حضرت موسیٰ ؑ حضرت شعیب ؑ کی صاحبزادیوں سے ملے تھے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ یہ ملاقات مدائن میں ہوئی تھی اور مدائن اردن میں سعودی عرب کی سرحد پر واقع ہے۔

حضرت شعیب ؑ کا مزار اور مسجدبھی اردن میں ہیں۔ سینٹ کیتھرائن سے ذرا سے فاصلے پر حضرت ہارون ؑ کا مزار بھی موجود ہے لیکن یہ بھی حقیقی نہیں کیونکہ حضرت ہارون ؑ کا انتقال اردن میں پیٹرا کے قریب ہوا تھا۔ اور وہ پیٹرا کے قریب جبل ہارون پر مدفون ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب تورات ملنے کے بعد کوہ طور سے واپس تشریف لائے تھے تو سامری جادوگر اور اس کے بچھڑے کا واقعہ پیش آگیا۔ بچھڑابعد ازاں چٹان میں اتر گیا۔ چٹانوں میں آج بھی بچھڑے کے آثارموجود ہیں اور حضرت موسیٰ ؑسامری جادوگر کے واقعے کے بعد حضرت ہارون ؑ اور بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر فلسطین کی طرف نکل گئے۔

حضرت ہارون ؑ دوران سفر پیٹرا کے قریب وصال فرما گئے جب کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بحرمردار (ڈیڈ سی) کے قریب کوہ نبو کے قریب وصال فرمایا چنانچہ سینٹ کیتھرائن میں حضرت ہارون ؑ سے منسوب مزار درست نہیں۔ باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ کوہ طور کی اترائی میں حضرت الیاس ؑ سے منسوب غار بھی موجود ہے یہ طور پر واحد جگہ ہے جہاں دو قدیم درخت ہیں۔ یہ غار اور درخت طور سے اترتے ہوئے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ حضرت الیاس ؑ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے۔

قرآن مجید نے انہیں الیاس جب کہ بائبل نے ایلیا کے نام سے مخاطب کیا۔ آپؑ بعلبک شہر کے رہنے والے تھے اور یہ شہر لبنان میں شام کی سرحد پر واقع ہے حضرت ابراہیم ؑ نے بھی اس شہر میں قیام کیا تھا۔ اہل شہر بعل نام کے بت کی پرستش کرتے تھے۔ بت 60 فٹ بلند تھا اور سونے کا بنا ہوا تھا۔ یہ شہر بعد ازاں حضرت سلیمان ؑ نے حق مہر میں ملکہ بلقیس کو دے دیا تھا۔ حضرت الیاس ؑ کا مزار بعلبک میں ہے۔ آپؑ اپنی قوم سے تنگ آ کر کوہ طور تشریف لے آئے تھے۔

آپؑ نے یہاں قیام بھی فرمایا اور اعتکاف بھی۔ آپؑ واپس بعلبک تشریف لے گئے لیکن آپؑ کا غار آج بھی کوہ طور کی اترائیوں پر موجود ہے اور اہل ایمان یہاں کھڑے ہو کر دعا بھی کرتے ہیں۔ آپؑ سینٹ کیتھرائن میں بھی تشریف لائے تھے لیکن یہ مقام اس وقت تک چرچ نہیں بنا تھا۔ یہ محض ایک چٹان اور برننگ بش تک محدود تھا۔ آپؑ نے جہاں قیام فرمایا تھا وہاں بعد ازاں چرچ بن گیا۔ یہ چرچ آپؑ کی یادگار ہے۔

سینٹ کیتھرائن میں نبی اکرمؐ سے منسوب وہ خط بھی موجود ہے جس پر آپؐ نے اپنے دست مبارک کا نشان لگا کر عیسائی کمیونٹی کو قیامت تک جان، مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی گارنٹی دی تھی۔یہ ایک دل چسپ واقعہ تھا۔ سینٹ کیتھرائن کے عیسائی پادری مدینہ منورہ آئے۔ رسول اللہ ﷺنے خود ان کی میزبانی فرمائی۔ وہ واپس جانے لگے تو آپؐ نے فرمایا۔ میری،میرے ساتھیوں اور میری امت کی طرف سے قیامت تک آپ کی جان، مال اور عبادت گاہیں محفوظ ہیں پادریوں نے عرض کیا۔ آپؐ یہ عہد نامہ تحریر فرما دیں۔ آپؐ نے عہدنامہ لکھوایا اور اپنے دست مبارک کا نشان لگاکر ان کے حوالے کر دیا۔

عہدنامے کی کاپی آج تک سینٹ کیتھرائن میں موجود ہے۔ اگر آپ وہاں جاییں تو آپ محسوس کریں گے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ کی تجلی آج بھی موجود یے اور ہر سانس کے ساتھ یہ صدا نکلتی یے بے شک اکبر صرف اور صرف اللہ ہے اور وہ اگر آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی غم، کوئی تاسف نہیں۔ اور یہ مصیبتوں کا گھردنیا پھر جنت سے کم نہیں۔

Leave a Reply