Patch Adams پیچ ایڈمز

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

پیچ ایڈمز

ہنٹر کیمبل ایڈمز ایک ناکام اور محروم انسان تھا۔ اس کا والد1961ء میں کوریا کی جنگ میں ہلاک گیا۔ اس کی عمر اس وقت سولہ سال تھی۔ یہ اپنی فیملی کے ساتھ کوریا سے واشنگٹن شفٹ ہوگیا۔ اس نے واشنگٹن میں ناانصافی، جنگ اور محرومی کے خلاف مہم شروع کر دی۔ یہ سڑکوں پر “جنگیں بند کرو” کے نعرے بھی لگاتا اور سکول میں تعلیم بھی حاصل کرتا ۔ اس کا یہ جنون سکول میں مذاق بن گیا۔ تمام بچے اسے پاگل سمجھ کر تنگ کرتے۔

اس کی ماں اور بہن بھائی کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر اسے کوفت ہوتی۔ غربت اور ساتھیوں کے مذاق نے اسے نفسیاتی مریض بنا دیا۔ اس کے اندر خود کشی کے رجحانات جنم لینے لگے۔ اس نے خود کشی کی کوشش کی۔ وہ اس میں ناکام رہا۔ چھ ماہ بعد اس نے دوبارہ کوشش کی وہ اس میں بھی ناکام رہا۔ اس نے تین ماہ بعد تیسری کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ مسلسل تین کوششوں کے بعد ڈاکٹروں نے اسے نفسیاتی مریض ڈکلیئرڈ کر دیا اور اسے پاگل خانے بھجوادیا۔

یہ پاگل خانے میں پاگلوں کے ساتھ رہتا تھا۔ پاگل خانے میں ایک سائنس دان بھی تھا۔ وہ شخص مطالعے کے جنون کی وجہ سے پاگل خانے پہنچا تھا ۔ وہ پاگل خانے میں ہر وقت مختلف تجربے کرتا رہتا تھا۔ ہنٹر کیمبل کو اس میں دلچسپی محسوس ہوئی اور وہ اکثر اس کی”لیبارٹری” میں چلا جاتا جہاں سائنس دان فرضی تجربے کرتا رہتاتھا۔ وہ ایک دن سائنس دان کے ساتھ بیٹھا تھا تو اس نے دیکھا سائنس دان کی کافی کے کپ میں چھوٹا سا سوراخ ہے اور اس سوراخ سے کافی کے قطرے میز پرٹپک رہے ہیں۔

پاگل خانوں میں پاگلوں کو کاغذ کے کپوں اور پلیٹوں میں کھانے پینے کی چیزیں دی جاتی ہیں تا کہ یہ چینی یا دھات کے برتنوں سے اپنے آپ اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ سائنس دان کی کافی کا مگ بھی کاغذی تھا۔ ہنٹر کیمبل ایڈمز نے ٹیبل پر لگی سکاچ ٹیپ کا ایک چھوٹا سا پیس توڑا اور کپ کے ٹوٹے ہوئے حصے پرچپکا دیا۔ کافی کے قطرے رسنا بند ہو گئے۔ سائنس دان نے حیرت سے کپ کی طرف دیکھا کپ پر لگے “پیچ” پر نظریں دوڈائی اور ہنٹر کیمبل ایڈمز کو “پیچ” کا خطاب دے دیا۔

اس طرح وہ ہنٹر کیمبل ایڈمز سے “پیچ ایڈمز” ہو گیا اور یہ اس وقت پوری دنیا میں اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس واقعے سے ایڈمز نے اندازہ لگایا قدرت نے اسے دنیا میں پیچ (پیوند) لگانے کے لیے بھیجاہے اور وہ اگر دکھی انسانیت کے رستے ہوئے زخموں پر پیوند لگا دے تو نہ صرف اس کی زندگی کا مقصد پورا ہو جائے گا بلکہ ہزاروں، لاکھوں انسانوں کے دکھ درد بھی ختم ہو جائیں گے۔پیچ ایڈمز پاگل خانے کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ میڈیکل ٹیسٹ کرائے، صحت مند ڈکلیئر ہوا اور پاگل خانے سے باہر آ گیا۔

پیچ ایڈمز کا خیال تھا میڈیکل سائنس میں ہر چیزموجود ہے۔ اس میں طبی ٹیسٹ بھی ہیں۔ ادویات بھی ہیں۔ آپریشن کے جدید ترین آلات بھی ہیں اور طبی سہولتوں کی مشینیں بھی ہیں لیکن اس میں جذبات احساسات اور انسانیت نہیں یے۔ جبکہ ایک مریض کو بیماری میں دواؤں، ٹیسٹوں اور مشینوں سے زیادہ ہمدردی، پیار اور قہقہے درکار ہوتے ہیں۔ مریض اگر بیماری کی حالت میں روزانہ پانچ دس مرتبہ قہقہے لگا لے۔ یہ بستر پر بیٹھ کر خوشی سے تالیاں بجا لے تو یہ جلد صحت یاب ہو سکتا ہے۔

اس کا خیال تھا ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ماں، بہن، بیوی، باپ اور بچے کی طرح ہمدرد اور مہربان ہوناچاہیے اور یہ چیز ہمارے ہسپتالوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ مریض ڈاکٹر کے پاس آتا ہے اور ڈاکٹر مکینیکل انداز میں اسے چند کیپسول، گولیاں اور ٹیسٹوں کی لمبی فہرست تھما کر واپس بھیج دیتا ہے۔ اس سے مریض مزید بیمار ہو جاتا ہے اور وہ زندگی سے بے زار ہو جاتا ہے۔ اس کا خیال تھا لوگ تھیٹروں میں بار بارکیوں جاتے ہیں۔

یہ ایک ہی قسم کے کارٹون پروگرام کئی مرتبہ کیوں دیکھ لیتے ہیں؟ کیونکہ یہ چیزیں انہیں ریلیکس کرتی ہیں چنانچہ ڈاکٹروں کو بھی کارٹون کریکٹرز کی طرح ہونا چاہیے یہ “جوک ماسٹرز” ہونے چاہییں تا کہ مریض خوشی سے ان کے پاس آئیں اور دوا کے ساتھ ساتھ قہقہے اور تالیوں کا تحفہ بھی لے کر جائیں۔ پیچ ایڈمز نے ایک ایسی نئی طب ایجاد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں دوا کے ساتھ قہقہے بھی ہوں چنانچہ یہ پاگل خانے سے نکلا اور میڈیکل کالج میں داخل ہو گیا۔

یہ دن کوطب کی تعلیم حاصل کرتا اور رات کو مختلف کارٹون کریکٹرز کے کپڑے پہن کر ہسپتال کی مختلف وارڈز میں چلا جاتا اور انتہائی بیمار مریضوں کے سامنے کھڑے ہو کر سرکس کے بونوں کی طرح اچھل کود کرتا۔ مریض اسے دیکھ کر خوشی ہوتے اور ان کی تکلیف اوردکھ بھی کم ہو جاتا۔ یہ بچوں کی وارڈ میں بہت مقبول ہوگیا۔ کینسر کے انتہائی سیریس بچے رات اور پیچ ایڈمز کا انتظار کرتے ۔ یہ “کلون” بن کر وارڈ میں آتا اور سارے مریض بچے مل کر اس کے ساتھ خوب اودھم مچاتے۔

پیچ ایڈمز کے اس نئے طریقہ علاج کا حیرت انگیز نتیجہ نکلا۔اس سے مریضوں کی “ریکوری” کی شرح بہتر ہو گئی۔ میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے پیچ ایڈمز کے طریقے کی شدید مخالفت کی. اسے کئی بار میڈیکل کالج سے نکالنے کی کوشش بھی کی لیکن مریضوں اور ساتھی طالب علموں کے شدید احتجاج پر کالج انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہو گئی۔ ہالی ووڈ نے پیچ ایڈمز پر “پیچ ایڈمز” کے نام سے فلم بھی بنائی۔ انڈیا کی مشہور فلم “منا بھائی” بھی پیچ ایڈمز کے اصلی کردار پر بنی ہوئی ہے۔

بہرحال جیسے تیسے پیچ ایڈمز نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد اس نے 1972ء میں “گیزنڈ ہائیٹ” انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے نام سے ایک طبی ادارے کی بنیاد رکھ دی۔ اس ادارے میں والنٹیئرز ڈاکٹرز خدمات سرانجام دیتے ہیں اور یہ سب لوگ پیچ ایڈمز کی طرح سرکس کے جوکرز، کارٹون کیریکٹرز اور مزاحیہ اداکاروں کے کپڑے پہن کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ پیچ ایڈمز کے ہسپتال میں تمام مریضوں کا علاج مفت ہوتا ہے اور اس کے مریضوں کی ریکوری کی شرح دنیا کے تمام ہسپتالوں سے کہیں اچھی ہے۔

پیچ ایڈمز اور اس کے ساتھی ہر سال سرکس کے جوکروں کے کپڑے پہن کر دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی اپنے طریقہ علاج کی پروموشن کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کو نیا طریقہ “اڈاپٹ” کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ پیچ ایڈمز کا خیال ہے مرض صرف ایک مریض تک محدود نہیں رہتا۔ یہ مرض مریض کے خاندان، سوسائٹی، ملک اور اس کے بعد پوری دنیا کو بیمار کر دیتا ہے۔ چنانچہ ہمیں اپنے ماحول کو اتنا خوشگوار بنا دینا چاہیے کہ بیماریاں دوسرے لوگوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔

کاش ہم سب لوگ پیچ ایڈمز کی طرح سوچ سکیں۔ ہم خود کشی کی بجائے پیچ ایڈمز کی طرح معاشرے کا پیوند بن جائیں۔ ہم اپنی زندگی کو سکاچ ٹیپ کا ایک ایسا چھوٹا سا ٹکڑا بنا لیں جو کسی کے دکھوں کے رستے ہوئے کپ کا پیوند بن جائے۔ جو موت کے سرہانے بیٹھے کسی مریض کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئے۔ کاش ہم میں بھی دوچار پیچ ایڈمز ہوتے۔

کاش دنیا کے وہ تمام لوگ جو خود کشی کرنے کیلئے گھر سے نکل رہے ہیں وہ ایک بار پیچ ایڈمز کے ہسپتال کا دورہ کر لیں۔ وہ پیچ ایڈمز کی ویب سائٹ وزٹ کر لیں اورایک بار اسکے مریض بچوں سے مل لیں تو وہ نہ صرف مرنے کا فیصلہ ترک کر دیں بلکہ ایڈمز کی طرح زندگی کو بڑے معانی اور مقصد سے دیکھیں گے۔ پیچ ایڈمز کہتا ہے “دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط “وِل پاور” خود کشی کرنے والے شخص کی ہوتی ہے۔ دنیا کا کوئی جان دار مرنا نہیں چاہتا لیکن خود کشی کرنے والا شخص زندگی کی خواہش پر بھی قابو پا لیتا ہے۔ یہ اپنی موت کا وقت اور طریقہ کار تک طے کر لیتا ہے۔ اس سے بڑی اور مضبوط قوت ارادی کس کے پاس ہو گی؟ وہ ساتھ ہی قہقہہ لگا کر کہتا ہے”اوراگر یہ شخص اپنی قوت ارادی کو موت سے زندگی کی طرف شفٹ کر دے تو یقین کیجیے یہ پہاڑ کو اپنے قدموں پر کھڑا کر سکتا ہے کیونکہ زندگی میں اعلیٰ اور ارفع مقصد پانے کے لیے جنون درکار ہوتا ہے جوخود کشی کرنے والے کی رگوں میں بھرا ہوتا ہے۔

Leave a Reply