Pop Jorge Mario Bergoglio پوپ جارج ماریو برگوگلیو

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Pop Jorge Mario Bergoglio پوپ جارج ماریو برگوگلیو

وہ 17دسمبر 1936میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں پیدا ہوا۔ وہ ایک مکمل نارمل نوجوان تھا. فوڈ سائنس لیبارٹری میں کیمسٹ تھا.کیریئر کا آغاز ایک سویپر کی نوکری سے کیا ۔ باتھ روم صاف کرتا تھا۔ جسم توانا تھا۔ چنانچہ نائیٹ کلب میں بائونسر کی جاب مل گیؑ۔ وہ فوڈ سائنس لیبارٹری میں پیشہ وارانہ زندگی کے عروج پر تھا۔ اب وہ شادی کر کے مکمل زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ لڑکی بھی پسند آ گئی۔ نوجوان نے ایک شام اپنی گرل فرینڈ کو ڈنر کی دعوت دی۔ منگنی کے لیے انگوٹھی خریدی۔ خوب صورت ڈریسنگ کی۔ گل دستہ خریدا اور ریستوران کی طرف چل پڑا۔راستے میں ایک چھوٹا سا چرچ تھا۔

وہ چرچ کے قریب سے گزر رہا تھاکہ اچانک اس نے اندر سے پیانو بجنےکی آواز سنی۔ اس کے قدم مڑ گئے اور وہ نہ چاہتے ہائےبھی چرچ کے اندر چلا گیا۔ اندر سیاہ کپڑوں میں ایک پادری پیانو بجا رہا تھا۔ پادری نے نوجوان کو دیکھا. پیانو بجانا بند کیا. اس کا استقبال کیا. کنفیشن باکس کے پاس پہنچا اور جالی کی دوسری طرف بیٹھ گیا. نوجوان ہاتھ میں گل دستہ پکڑے حیرت سے یہ کارروائی دیکھ رہاتھا۔ پادری جالی کے پیچھے سے بولا “نوجوان بتاوؑ۔ میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں” نوجوان نے جواب دیا “مجھے کوئی مسؑلہ نہیں” اور نہ میں کسی گناہ کے اعتراف کے لیے یہاں آیاہوں۔ میں یہاں سے گزر رہا تھا۔ پیانو کی آواز سنی تو اندر آ گیا۔ پادری نے ہنس کر جواب دیا “مجھےعلم یے تم یہاں میرے لیے نہیں آئے لیکن میں تمہارے لیے آیا ہوں۔ وہ حیرت سے پادری کیطرف دیکھتا رہا۔ پادری مزید بولا “میں اس چرچ کا پادری نہیں ہوں”‘ میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوں اور زیادہ دن زندہ بھی نہیں رہ سکوں گا۔ مجھے کل رات خواب میں بشارت ہوئی کہ تم فلاں چرچ جائو اور گناہ گاروں کی داستانیں سنو۔ میں یہاں آ گیا سارا دن گزر گیا مگر کوئی شخص چرچ نہیں آیا۔ میں نےبور ہو کر پیانو بجانا شروع کر دیا اور تم آ گئے۔

میرا خیال ہے میں یہاں صرف تمہارے لیے بھجوایا گیا ہوں لہٰذا پلیزمجھ سے بات کرو۔ نوجوان کی حیرت میں اضافہ ہو گیا۔ چرچ میں دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ اندر اندھیراتھا۔ نوجوان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا “فادر زندگی کا مقصد کیا ہے؟” پادری نے جواب دیا “اللہ کی نعمتوں کا اعتراف” اس نےمزید کہا ” اوراگر اعتراف کے بعد بھی زندگی بچ جائے توانسان پھر کیا کرے” پادری نے جواب دیا “یہ پھر دوسرے لوگوں کو اللہ کی نعمتوں کے بارے میں بتاےؑ” نوجوان نے گہری سانس لی۔ چرچ سے باہر آیااور اپنی باقی زندگی چرچ کے لیے وقف کردی۔
پیانو کی ایک دھن نے نوجوان کی ساری زندگی کارخ تبدیل کردیا۔ وہ کیمسٹ کے پیشے سے نکل کر مذہبی سکول میں داخل ہو گیا۔ ارجنٹائن میں سوسائٹی آف جیزز کے نام سے پادریوں کا ایک ادارہ ہے وہ اس کا حصہ بن گیا۔ مذہبی تعلیم حاصل کی، 1969ء میں پادری بنا۔ 1973ء میں صوبائی سطح کا پادری بنا اور 1998ء میں اسے ارجنٹائن کا آرچ بشپ بنا دیا گیا۔ وہ پورے ملک میں مشہور ہو گیا اس دوران ارجنٹائن میں حالات بہت کشیدہ بھی ہوےؑ اسے اپنے دو دوستوں کے خلاف مخبری کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن یہ آگے بڑھتا رہا۔

پوپ جان پال دوم نے2001ء میں دس نئے کارڈینل بنائے۔ یہ بھی دنیا کے ان دس خوش نصیب ترین پادریوں میں شامل تھا۔ کارڈینل کا عہدہ پوپ سے نیچے مقدس ترین عہدہ ہوتا ہے۔ پوپ کا فیصلہ کارڈینلز کا بنچ کرتا ہے۔ یہ تاحیات ہوتے ہیں اور پوپ ان کے انتقال کے بعدان کی جگہ نیا کارڈینل مقرر کرتا ہے۔ یہ اس کے مذہبی کیریئر کا عروج تھا۔ یہ فٹ بال اور ٹینگو ڈانس کا شوقین تھا۔ یہ اپنی تمام تر عبادات کے باوجود یہ دونوں عادتیں ختم نہیں کر سکاتھا۔ یہ بھرپور قہقہہے بھی لگاتا اور یہ ہر قسم کے شخص سے کھلے دل کے ساتھ مل بھی لیتا تھا۔

جارج ماریو برگوگلیو کی زندگی میں 2013ء میں الگ موڑ آ گیا۔ اس کی عمر 77سال ہو چکی تھی اور یہ کارڈینل کا عہدہ ترک کر کے باقی عمر عام انسان کی طرح گزارنا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی یہ ٹینگو ڈانس کرے، سٹیڈیم میں بیٹھ کر فٹ بال کے میچ دیکھےاور عام انسانوں کی طرح گلیوں میں گھومے پھرے۔ لہٰذا اس نے اپنا استعفیٰ پوپ کو بھجوا دیا۔ بینی ڈکٹ اس وقت پوپ تھے۔ یہ جرمن نژاد تھے اور دلچسپ عادتوں کے مالک تھے۔ پوپ کو کسی کارڈینل کی طرف سے یہ پہلا استعفیٰ موصول ہوا تھا۔وہ حیران ہو گئے۔ پوری عیسائی دنیا میں ہر پادری کارڈینل بننا چاہتا ہے۔ لوگوں کی نسلیں یہ خواب دیکھتے دیکھتے مر جاتی ہیں جب کہ جارج اپنا عہدہ چھوڑ کر عام آدمی کی زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ یہ عجیب بات تھی چنانچہ پوپ نے کارڈینل جارج کو ویٹی کن سٹی میں طلب کر لیا۔ یہ روم پہنچا۔ اسے پوپ کی گاڑی میں پوپ کے سمر پیلس میں لے جایا گیا۔پوپ نے کارڈینل کے ساتھ گفتگو کی اور اسے اپنا مہمان بنا لیا۔

کارڈینل نے پوپ کو فٹ بال اور ٹینگو ڈانس کے بارے میں بتایا۔ اس نے روم کی قدیم پیزا شاپ سے پیزا منگوا کرپوپ کو کھلایا اور اسے اپنی زندگی کے مشکل اورحیران کن پہلوئوں کے بارے میں بتایا۔ پوپ نے اس سے پوچھا “تم استعفیٰ کیوں دینا چاہتے ہو” کارڈینل جارج کا جواب تھا ۔میرے دو دوست یہ سمجھتے تھا میں نے ڈکٹیٹر جارج رافیل سے ان کی مخبری کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں اگر میں کوشش کرتا تو میں ان کی جان بچا سکتا تھا ۔دوسرا میں مذہبی انسان نہیں ہوں۔ مجھے محض ایک اتفاق اس فیلڈ میں لے آیا اور میں 44 برسوں سے پادری کا لبادہ اوڑھے یہ کردار ادا کر رہا ہوں۔ اب میں تھک گیا ہوں۔ میں اب عام انسان کی طرح زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ پوپ نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور کارڈینل کو یہ بتا کر حیران کر دیا “میں بھی پوپ بن بن کر تھک گیا ہوں، میرا دماغ سست ہو چکا ہے، میں اب بروقت فیصلے نہیں کر پاتا لہٰذا میں پوپ کا عہدہ چھوڑ کر باقی زندگی اپنے گائوں میں گزارنا چاہتا ہوں” کارڈینل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا “پوپ کا عہدہ تو تاحیات ہوتا ہے، پوپ ریٹائر نہیں ہو سکتا” پوپ بینی ڈکٹ نے کہا “نہیں مجھ سے پہلے گیارہویں صدی میں پوپ گریگوری ششم اور پندرہویں صدی میں گریگوری 12 مستعفی ہو چکے ہیں۔میں عیسائی تاریخ کا مستعفی ہونے والا تیسرا پوپ ہوں گا اور میری جگہ تم پوپ بنو گے” کارڈینل کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور اس نے پوپ بینی ڈکٹ کی منتیں شروع کر دیں مگر پوپ کا فیصلہ حتمی تھا۔

آپ کہانی کا ٹوِسٹ ملاحظہ کیجےؑ۔ وہ شادی کے لیؑےگرل فرینڈ کو پروپوز کرنے جا رہا تھا اور راستے میں اس کی زندگی بدل گیؑی۔ اس نے کارڈینل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو پوپ نے ریٹائرمنٹ لے کر پوپ کا ہار اس کے گلے میں ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ پوپ بینی ڈکٹ نے ریٹائر ہوکر اور کارڈینل جارج کو پوپ نامزد کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ جارج ماریو برگوگلیو 13 مارچ 2013ء کو266ویں پوپ بن گئے۔یہ عیسائی تاریخ میں پہلے امریکی اور غیر یورپی پوپ ہیں۔ دنیا میں اس وقت دو پوپ ہیں۔ پوپ بینی ڈکٹ ریٹائرمنٹ کے باوجود زندہ ہیں اور جارج بر گوگلیو پوپ فرانسیس کے نام سے عیسائی دنیا کے مذہبی پیشوا ہیں۔ یہ دنیا کے پہلے پوپ ہیں جو فٹ بال میچ بھی دیکھتے ہیں۔ ٹینگو ڈانس بھی جانتے ہیں۔ بازار کا پیزا بھی کھا لیتے ہیں اور یہ عام لوگوں سے بھی مل لیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تازہ ترین مثال ہیں کہ تم نہیں چنتےبلکہ اللہ چنتا ہے۔ تم کسی بھی طرف نکل جائو، تم کہیں بھی بھاگ جائو لیکن آخر میں تم وہیں پہنچو گےجہاں میں تمہیں لے جانا چا ہوں گا۔ ہمیں بہرحال یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی‘ کی تمام تر کوشش اور محنت کے باوجود ہوتا وہی یے جو اللہ چایتا یے۔لیکن یہ بھی یاد رکھیؑے اس کے ہر کام میں حکمت پوشیدہ ہے۔وہ جو کرتا یے وہی بلکل درست اور صحیح ہوتا یے۔

Leave a Reply