Relaxation سکون

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Relaxation سکون

.فرانس کے شہر پیرس میں ایک دفعہ مصوری کا بین الاقوامی کا مقابلہ ہوا. موضوع تھا “سکون” دنیا بھر کے ہزاروں مصوروں نے اپنی پینٹنگز بنائیں۔ ججز نے ان میں سے کسی ایک کو بہترین تصویر قرار دینا تھا۔ تصویریں فلٹر ہو کر آخر میں دس رہ گئیں۔ تمام تصویریں مصوری کا شاہکار تھیں۔ ایک تصویر میں ایک سیاہ اور سفید بچہ دنیا سے بے پروا کھیل رہے
تھے اور ان کے چہروں پر خوشی اور سکون چمک رہا تھا۔ ایک تصویر میں وادی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ افک پر چاند جگمگا رہا تھا۔ جھیل کا پانی تک سکون کی نیند سو رہا تھا۔ چاروں اطراف گہرا سکوت تھا۔ درخت تک سانس نہیں لے رہے تھے۔ اسی طرح ایک تصویر میں صحرا کی شام تھی۔ دور دور تک شام کی لالی اور ریت کا سمندر بکھرا ہوا تھا۔
وہ تصویر بھی تصویر نٰہیں حقیقت کا منظر پیش کر رہی تھی۔ ایک اور تصویر میں شیر اور ہرن کا بچہ قریب قریب لیٹے تھے اور شیرنی بڑے پیار سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اور ایک تصویر میں ایک آدمی لندن کے مصروف ترین ریلوے سٹیشن پر گندا کمبل اوڑھ کر لیٹا تھا اور کمبل کے نیچے سے ایک آنکھ سے ریلوے سٹیشن کے رش کو حیرانکی سے دیکھ رہا تھا۔

یہ تمام تصویریں ماسٹر پیس تھیں۔ مقابلہ سخت تھا۔جیوری سر پکڑ کر بیٹھی تھی اور آرٹ کے دیوانے دم سادھ کر گیلری کے سامنے کھڑے تھے۔ انکی نظریں اور کان جیوری پر ٹکی تھیں۔ ججز نے بہرحال طویل غوروفکر کے بعد دنیا کی بہترین تصویر کا فیصلہ سنا دیا۔ بیسٹ پینٹنگ دیوار پر لٹکا دی گئی اور اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ لوگ دیوانہ وار تصویر کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ گیلری کی انتظامیہ نے ہجوم کی طرف دیکھا۔ لمبا سانس لیا اور پردہ ہٹا دیا “وٹ از دٖس ؟ ہجوم کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ دیوار پر ایک انتہائی بے ہنگم اور عجیب تصویر لگی تھی۔ کینوس پر بے ترتیبی اور ہنگامہ تھا۔ آسمان پر بجلیاں کڑک رہی تھیں۔ زمین لاوا ابل رہی تھی۔ سامنے سمندر کی طغیانی تھی۔ جس میں خوف ناک طلاطم تھا۔ تیز آندھی درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ رہی تھی اور دائیں بائیں انسانی لاشیں بکھری تھیں۔

اس خوف ناک ماحول میں ایک ویران سی جھونپڑی بھی تھی۔ دیواریں بوسیدہ تھی۔ چھت ایک طرف سے بیٹھی ہوئی تھی اور کھڑکیاں اور دروازے شکستہ تھے۔ وہ تصویر کسی بھی طرح سکون کا مظہر نہیں تھی۔ اس میں ہر طرف سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ لوگوں نے شور شروع کر دیا۔ ان کاخیال تھا۔ انتظامیہ سے غلطی ہوئی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے آرٹ کے اتنے بڑے ججز اس تصویر کو سکون کا ایوارڈ دے دیں۔ یہ بچوں کی کسی آرٹ بک میں تو شامل ہو سکتی ہے لیکن مصوری کے عالمی مقابلے کا پہلا انعام نہیں پا سکتی۔

عوام کا شور اور احتجاج سن کرمنتظم مسکرا کر بولا “میں آپ کے جذبات سمجھتا ہوں۔ یہ تصویر یقینا آپ کی ایکسپیکٹیشنز کے مطابق نہیں۔ اس کی بے ترتیبی اور انتشار آپ کے ذوق پر گراں گزر رہا ہے۔ میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں لیکن آپ ہمارا نکتہ نظربھی سمجھ لیں۔ ہجوم خاموشی سے اس کی بات سنتا رہا۔ وہ بولا “آپ تصویر کے تمام مناظر سے ہوتے ہوئے اس کٹیا کو دیکھیں اور پھر اس کی کھڑکی پر فوکس کریں” ہجوم نے اپنی نظریں کھڑکی پر جما دیں۔

کھڑکی میں سے ایک شخص نظر آیا۔ منتظم نے کہا “آپ اس شخص کاچہرہ دیکھیں” آپ کو اس پر گہرا سکون دکھائی دے گا۔ یہ چہرہ دراصل اس پوری تصویر کا مغز ہے اور یہ مغز بتا رہا ہے سکون ماحول میں نہیں ہوتا۔ یہ ہم انسانوں کے اندر ہوتا ہے۔ دنیا میں وہ انسان سب سے بہادراور توانا ہے جو برے سے برے حالات میں بھی سکون کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جو بربادی، پریشانی اور انتشار کو بھی اپنی ذات کے اندر نہ گھسنے دے اور ہم اس مصور کو داد دیتے ہیں۔ اس نے برش کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑی حقیقت کو کینوس پر درج کر دیا۔ ہجوم نے یہ سن کر دوبارہ تصویر کی طرف دیکھا اور وہ بے اختیار تالیاں بجانے پر مجبور ہوگیا۔

یہ تصور سکون کا بہت پرانا نسخہ ہے۔ ہندو جوگی صدیوں پہلے شاردا میں زندگی کے ستائے لوگوں کو شانتی کی ٹریننگ دیتے تھے۔ یہ لوگوں کو بتاتے تھے دنیا کا سارا شور اور ساری پریشانیاں باہر نہیں بلکہ ہمارے ذہن اور دماغ میں ہیں۔ آپ اگر اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھولنا اور بند کرنا سیکھ جائیں تو پھر دنیا کی کوئی پریشانی آپ کو پریشان نہیں کر سکے گی۔

آپ قبرستان میں بھی بیٹھ کر سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ یہ لوگوں کو دماغ کو کنٹرول کرنے کا طریقہ بھی سکھاتے تھے۔ دنیا میں بودھ مت آیا تو یہ لوگ بھی باہر کی بجائے اندر کی بتی جلانے کا طریقہ سکھانے لگے۔ مہاتما بودھ کہتا تھا۔ روشنی باہر نہیں ہوتی۔
آنکھ کے اندر ہوتی ہے۔ آنکھ کا نور اگر سلامت ہو تو انسان اندھیرے میں بھی دیکھ سکتا ہے۔ وہ کہتا تھا خواہش انسان کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ دکھ دیتی ہے۔ ہمارے سر پر خواہشوں کی جتنی بڑی گٹھڑی ہوگی ہم اتنے ہی دکھی ہوں گے چنانچہ تم اگر خوش رہنا چاہتے ہو تو خواہشوں کا بوجھ اتارتے چلے جاﺅ۔ تم مکتی پا جاﺅ گے۔

ہم اپنے ارد گرد دیکھ لیں لوگوں میں ڈپریشن، اینگزائٹی اور فرسٹریشن بڑھ رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ڈپریشن کاشکار ہیں۔ لوگ کروڑ اور ارب پتی ہیں لیکن اندر سے بے سکونی کا شکار ہیں۔

کراچی میں ایک آدمی ہے۔ اس کی کمپنی میں سات ہزار ملازم ہیں۔ ذاتی جہاز کا مالک ہے لیکن تین مرتبہ خودکشی کی کوشش کر چکا ہے۔ زندگی میں کوئی کمی نہیں لیکن اندرسے خالی ہے۔ دنیا کی کوئی چیز اسے سکون نہیں دیتی۔ سارے جتن کر کے دیکھ لیے لیکن ڈپریشن ختم نہیں ہوا۔ میں نے ایک دن اس سے کہا” تمہاری زندگی میں کوئی ایشو نہیں۔ تم سکون تلاش کرنا بند کردو۔ نیچر کے ساتھ رہو اور سلگتی دنیا سے رابطے کم کر دو۔ وہ ہنس کر خاموش ہوگیا۔

میں آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں۔ لمبی واک کیا کریں۔ سوشل میڈیا استعمال کرنا بہت کم کر دیں۔ ٹویٹر اور فیس بک فرسٹریشن اور ڈپرشن کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ ان سے کنارہ کشی کریں۔ ٹیلی ویژن بھی اپنی زندگی سے نکال دیں

ایک صوفی صاحب تھے۔
وہ فون صرف کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ فون کرتے اور اس کے بعد اس کی تار نکال دیتے تھے۔ ان سے اس سنگ دلی کی وجہ پوچھی گیؑ تو وہ ہنس کر بولے ٹیلی فون کی تار میں ڈپریشن ہوتا ہے۔ آپ کسی دن تحقیق کر لینا دنیا میں جس دن سے فون آیا ہے انسان زیادہ بیمار ہو رہا ہے چنانچہ سکون چاہتے ہو تو فون کا استعمال کم کردو، سکھ اور سکون بڑھ جائے گا”

اور ایک آخری بات دنیا میں سب مایؑع ہے۔ کائنات کی کوئی چیز مستقل نہیں حتیٰ کہ کائنات بھی نہیں چنانچہ انتشار اور ظلمت کے اس دور میں سکھ اور سکون کے جتنے بھی لمحے مل جائیں وہ انعام ہیں لہٰذا آئیے ہم اپنی جھونپڑی میں کھڑے ہو کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس نے ہمیں اس طوفان میں بھی سلامت رکھا اور ہم نے آج کا دن بھی گزار لیا۔ ہم آج بھی سروائیو کر گئے۔ الحمداللہ۔

Leave a Reply