Samsung سام سنگ

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Samsung سام سنگ

اس کے والد لی بیونگ چل نے 1940ء میں جنوبی کوریا کے شہرٹائیگومیں سام سنگ کے نام سے چھوٹی سی کمپنی بنائی. کوریائی زبان میں “سام سنگ” تین ستاروں کو کہتے ہیں۔ قدیم روایات کے مطابق اکٹھے طلوع ہونے والے تین ستارے کبھی غروب نہیں ہوتے۔

لی بیونگ چل نے اسی بنا پر کمپنی کا نام سام سنگ رکھ دیا۔ کمپنی شروع میں فروٹ اور فروزن فش ایکسپورٹ کرتی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ہر طرف تباہی اور خستہ حالی مچ گیؑ تو سام سنگ خوراک سے کنسٹرکش انڈسٹری میں آگئی اور اس نے دھڑا دھڑ عمارتیں، پل اور سڑکیں بنانا شروع کر دیں. لی بیونگ چل نے اس سے کروڑوں روپے کمائے۔ یہ سمجھ دار انسان تھا.لہٰذا اس نے کنسٹرکشن کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل، فیشن اور الیکٹرانکس کے کاروبار میں بھی اپنے پنجے گارڑ دییؑے۔ گروپ بڑا ہوتا چلا گیا۔ لی کن ہی، لی بیونگ چل کا تیسرا بیٹا تھا۔ یہ کند ذہن اور لاپرواہ مزاج لڑکا تھا۔ پڑھائی میں بھی اچھا نہیں تھا لیکن والد اسے ہرحال میں پڑھانا چاہتا تھا۔ لی کن ہی نے وسیڈا یونیورسٹی جاپان سے اکنامکس کی ڈگری لی اور بزنس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے جارج واشنگٹن یونیورسٹی امریکا چلا گیا۔ لی پڑھائی میں عدم دلچسپی کیوجہ سے اپنی ڈگری بھی مکمل نہ کر سکا۔ والد نے اسے واپس بلایا اور کنسٹرکشن اور ٹریڈنگ کے کام میں لگا دیا۔ والد اسکے کام سے بھی مطمئن نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا یہ پوری کمپنی کو دیوالیہ کر دے گے۔ والد 1987ء میں انتقال کر گیا اور لی کو ہنگامی حالات میں کمپنی سنبھالنا پڑ گئی۔ کمپنی اس وقت 34 کے قریب مختلف شعبوں میں کام کر رہی تھی۔

ایک ناتجربہ کار آدمی کے لیؑے چونتس شعبوں کو بیک وقت ہینڈل کرنا بہرحال ایک مشکل کام ہے۔ یہ سخت محنت کرتا رہا یہاں تک کہ 1993ء آ گیا۔ لی کو اچانک محسوس ہوا ہم بہت زیادہ پراڈکٹس بنا رہے ہیں جس وجہ سے ہم بہتر کوالٹی نہیں دے پا رہے جب کہ ہمارے حریف صرف ایک کام کرتے ہیں اور ان کی مصنوعات کی کوالٹی سام سنگ سے بہت بہتر ہے۔ لی کو محسوس ہوا اگر ہم نے اپنی کوالٹی کو امپروو نہ کیا تو ہم مارکیٹ میں بہت پیچھے رہ جایؑیں گے۔

اس نے ایک دن اپنے تمام ایگزیکٹو ممبرز کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا ” آج کے بعد ہم اپنی بیوی اور بچوں کے علاوہ ہر چیز بدل رہے ہیں”۔ اب ہماری مصنوعات مارکیٹ میں نمبر ون ہونی چاہییں۔ تم لوگ نقصان کی پرواہ نہ کرنا۔ ہم اگر فٹ پاتھ پر بھی آ جائیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن معیار پر کسی قسم کا کمپرومایؑز نیں ہونا چاہییں۔ سام سنگ لوگوں کےلیؑے گارنٹی کی زمانت ہونا چاہیے۔ یہ میجر شفٹنگ تھی۔ انتظامیہ نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ڈٹا رہا۔

۔ایگزیکٹوز نے ہار مان لی اور تعداد کی بجائے معیار پر چلے گئے۔ شروع کے سال بہت مشکل تھے۔ کمپنی کے گودام کباڑ خانہ بن گئے۔ لوگ سام سنگ کے سائن بورڈز کے قریب سے بھی نہیں گزرتے تھے۔ ڈسٹری بیوٹرز تک بھاگ گئے مگر یہ کام میں جتے رہے۔ صرف دو سالوں میں کمپنی کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ اسی اثنا میں لی کن ہی پر جنوبی کوریا کے صدر روح تائے ووہ کو30 ملین ڈالر رشوت دینے کا الزام لگ گیا۔

یہ عدالتی مقدمات کا سامنا بھی کرنے لگا۔ وہ ایک مشکل دور تھا لیکن اس دور نے انہیں پگھلا کر کندن بنا دیا۔ یہ نکھرتے چلے گئے۔ سام سنگ اس دوران ٹیلی ویژن انڈسٹری میں آگیااور اس کا ٹی وی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ لیڈر بن گیا اور اس نے معیار اور فروخت میں سونی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 2006ء میں سام سنگ کا لوگو اعلیٰ معیار کا گارنٹی کارڈ بن گیا۔ لی کن ہی نے 1998ء میں سمارٹ فونز کا یونٹ بھی لگا لیا۔

سمارٹ فون کا یونٹ گلیکسی کہلاتا تھا۔ گلیکسی مارکیٹ میں آ یا اور اس نے کمال کر دیا۔ یہ دیکھتے ہی دیکھتے عالمی برینڈ بن گیا جس کے بعد سام سنگ 350 بلین ڈالر کی کمپنی بن گئی۔ لی کن ہی کو فوربس میگزین نے 2014ء میں دنیا کے100 بااثر ترین لوگوں کی لسٹ میں بھی شامل کیااور یہ کوریا کا امیر ترین شخص بھی بن گیا۔ یہ سٹیٹ سے بھی امیر ہو گیا۔لی کن ہی کی کام یابی کا پہلا ستون ٹیکنالوجی تھی۔

ان کے پاس قابل ترین سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر انجینئرز ہیں جس وجہ سے یہ کمپنی پچھلے دس برسوں سے مارکیٹ کو لیڈ کر رہی ہے۔ دوسرا یہ معیار پر کمپرومائز نہیں کرتے۔ اور تیسرا لی کن ہی خریدوفروخت کا ایکسپرٹ تھا۔ یہ راستے کی ہر رکاوٹ کو خرید کر یا گرا کر آگے نکل جاتا تھا۔ یہ جنوبی کوریا کے قوانین تک بدل دیتا تھا۔

یہ اپنی مرضی کی حکومتیں بھی لے آتا تھا اور عدالتوں کے جج بھی بدل دیتا تھا۔آپ کو ملک کے ہر سیاسی اتار چڑھاؤ کے پیچھے سام سنگ اور لی کن ہی کا کردار ضرور ملے گا۔اس پر صدور کو رشوت دینے کے الزامات بھی لگے اور 2008ء میں اس پر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت بھی ہو گئے۔

اسے سزا بھی ہوئی لیکن اس نے عدالت اور حکومت دونوں کو خرید لیا۔ سزا معاف ہو گئی تاہم اسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا عہدہ واپس کرنا پڑ گیا۔ یہ پورے کوریا میں بدنام تھا مگر اسے کوئی ندامت کوئی پریشانی نہیں تھی یہ کہتا تھا اگر آپ دولت سے آسانیاں نہیں خرید سکتے تو پھر آپ کو دولت مند ہونے کا کوئی فائدہ نہیں چنانچہ یہ سامنے موجود ہر شخص کو چند لمحوں میں خرید لیا کرتا تھا۔ اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اس نے آخر میں زندگی کو بھی خریدنے کی کوشش شروع کر دی۔

چیئرمین لی کن ہی کو 2014ء میں ہارٹ اٹیک ہوا اور یہ کوما میں چلا گیا۔ اس کی وصیت کے مطابق اس کے لیے نئی ادویات کی ایجاد کا کام شروع کر دیا گیا۔ سام سنگ نے کئ ریسرچ اداروں کو فنڈنگ کی۔ بڑے سے بڑے ڈاکٹر ہائرکئے اور مہنگی ترین ادویات تیار کروائی لیکن لی کن ہی کومے سے باہر نہ آ سکا۔ اس کے بیٹے لی جائے یونگ نے کمپنی کی عنان سنبھالی۔ یہ اپنے والد کو ایک بار اپنے پاؤں پر کھڑا دیکھنا چاہتا تھا۔اس کی شدید خواہش تھی یہ ایک بار اپنے منہ سے بولیں

لیکن لی جائے یونگ کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور 25 اکتوبر 2020ء کی شام لی کن ہی کومے میں ہی انتقال کر گیا۔ڈاکٹروں نےاعلان کر دیا لی کن ہی اب اس دنیا میں موجود نہیں۔ بیڈ پر لیٹےاس شخص کے اکاؤنٹ میں 20 بلین ڈالرز تھے اور یہ 350 بلین ڈالرز کی کمپنی کا مالک تھا مگر یہ سارا سرمایہ اسکی موت کو نہ ٹال سکا۔ مسافر چھ سال کی طویل نیند کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہو گیا۔

لی کن ہی کی موت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا انسان دنیا میں دولت کے ذریعے سب کچھ خرید سکتا ہے لیکن یہ کتنا ہی بڑا بیوپاری کیوں نہ بن جائے یہ ایک بھی اضافی سانس نہیں خرید سکتا۔ کہتے ہیں انسان اگر زندگی خرید سکتا تو ہم آج بھی نمرود اور فرعون کی خدائی میں سانس لے رہے ہوتے۔ موت خداکا وہ امر ہے جس کے ذریعے اللہ لی کن ہی اور اس جیسےکئی لوگوں کو یہ پیغام دیتا ہے۔ تم جتنا بھی بھاگ لو لیکن تم نے آخر میں ہمارے حضور ہی حاضر ہونا یے۔

میں تمہیں کائنات کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دوں گا اور یہ چھپنے دیتا بھی نہیں۔ تاریخ انسانی خداؤں کا قبرستان ہے۔ آپ کسی دن تاریخ کے قبرستان میں جھانک کر دیکھیں۔آپ کو ہر قبر میں کوئی نہ کوئی ایسا شخص ملے گا جو خود کو ناگزیر بھی سمجھتا تھا اور ناقابل تسخیر بھی لیکن پھر کیا ہوا؟ ہر ناگزیر کے لیے مٹی آخری لحاف ثابت ہوئی۔ اللہ کی اس دنیا میں لی کن ہی جیسا شخص بھی چھ سال ہسپتال میں بستر پر لیٹ کر آنکھ نہیں کھول پاتا

اوراس دنیا سے امیر تیمور اور ہٹلر جیسا شخص بھی خالی ہاتھ لوٹ جاتا ہے۔ یہاں سے انبیاء تک چلے گئے۔ جو بھی آیا یے اس نے بہرحال جاناہے۔ باقی رینے گی تو بس اللہ کی زات۔ لیکن ہم اس قبرستان میں پوری زندگی “میں میں” کی آوازیں لگاتے رہتے ہیں اور ہمیں شرم بھی نہیں آتی کہ ہم چھوٹے سے جراثیم کورونا کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے، زندگی اور موت دینے والےخدا کا کیا خاک مقابلہ کریں گے۔

Leave a Reply