Sultan Behram & Mobzan سلطان بہرام اور موبذان

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Sultan Behram & Mobzan سلطان بہرام اور موبذان

ابن خلدون نے ایران کےایک بادشاہ سلطان بہرام بن بہرام اورایک عالم دین موبذان کا واقعہ لکھا یے۔ ابن خلدون بیان کرتے ہیں سلطان بہرام کے دور میں بے روزگاری، قحط، لوٹ کھسوٹ اور قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا۔ سرکاری ادارے اور فوج بھی زوال کی تہہ کو چھوریے تھے۔ ملک تباہی کے دھانے پرآ کھڑاہوا ۔ لوگوں نے تنگ آ کرنقل مکانی شروع کردی ۔ایران میں اس زمانے میں موبذان نام کا ایک عالم دین تھا۔ اس کی بادشاہ تک رسائی تھی۔ بادشاہ ایک دن موبذان کے ساتھ باغ میں بیٹھا تھا۔ اچانک اُلو کی چیخ کی آواز آئی۔ بادشاہ نے موبذان کی ذہانت کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اسنے اس سے پوچھا “مولوی صاحب ذرا یہ بتائیں یہ اُلو کیا کہہ رہا ہے” موبذان سمجھ دار اور محب وطن آدمی تھا۔ اس
نے موقع غنیمت جانا اور عرض کیا “حضور یہ مادہ اُلو کی خوشی کی چیخ تھی” بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا “کیا مطلب؟” موبذان بولا “حضور آپ کے باغ میں ایک نر اُلو نے مادہ اُلو سے شادی کی درخواست کی۔ مادہ اُلو نے حق مہر میں بیس برباد بستیاں مانگ لیں۔ نر نے جواب میں کہا۔ تم فکر نہ کرو اگر بہرام بادشاہ رہا تو میں تمہیں بیس نہیں ایک ہزار اجڑی ہوئی بستیاں دے دوں گا۔ یہ سن کر مادہ نے خوشی کے عالم میں چیخ ماردی۔

بادشاہ چونک گیا۔ اس نے دربار میں موجود تمام لوگوں کو باہر نکالا اوراکیلا موبذان کے ساتھ بیٹھ گیا اور پوچھا “کیا واقعی میرے ملک میں ایسے حالات ہیں موبذان نے ہمت سے جواب دیا بادشاہ سلامت حالات اس سے کئی گنا زیادہ خراب ہیں۔ بادشاہ نے وجہ پوچھی تو موبذان نے بتایا ۔”بادشاہ سلامت ریاست شاہی اختیارات کا نام ہوتی ہے اور شاہی اختیار کے تین عناصر ہوتے ہیں۔ تخت، فوج اور بیوروکریسی۔ یہ تینو عناصر جتنے مضبوط ہوں ملک اتنے ہی طاقتور ہوتے ہیں اور یہ تینوں عناصر عوام کیوجہ سے مضبوط ہوتے ہیں۔ عوام زراعت اور کاروبار کے سہارے زندہ رہتے ہیں کاروبار اور زراعت کا زمین کی آبادکاری کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور آباد کاری انصاف کے بغیرممکن نہیں. چنانچہ ہم اگر کسی ملک کو تباہ کرنا چاہیں تو وہاں سے صرف انصاف ختم کر دیں۔ لوگ وہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے۔ نقل مکانی سے کاروبار اور کھیت ویران ہو جائیں گے۔ عوام اپنا روپیہ پیسہ چھپا لیں گے۔ ملک کو ٹیکس نہیں ملے گا۔ ٹیکس کی کمی سے بیورو کریسی اور فوج کم زورہو جائے گی۔ اور جب یہ دونوں کم زور ہوں گی تو حکومت بھی زمین بوس ہو جائے گا اور یوں شاہی اختیار بھی ختم ہو جائے گا اور ہمارے ملک میں اس وقت یہی ہو رہا ہے۔

آپ کی ناانصافی کی وجہ سے شہر کے شہر اجڑ رہے ہیں اور اُلو ہزار ہزار بستیاں حق مہر میں دے رہے ہیں” بادشاہ کو پسینہ آ گیا اور اس نے پوچھا ” میں نے کیا غلطی کی ہے” موبذان نے جواب دیا “آپ کی ریاست ملک کے امراء کے ٹیکسوں پر پنپ رہی تھی۔ آپ نے حکومت سنبھالتے ہی ملک کے تمام کارآمد لوگوں کو چور، ڈاکو اور بے ایمان قرار دے کران کے کھیت، کارخانے اور کاروبار اپنے ملازموں اور دوستوں میں تقسیم کر دیے۔ آپ کے دوست بے کار اور نالائق لوگ تھے۔ یہ نہ کاروبار چلا سکے اور نہ کاشت کاری کر سکے۔ آپ نے ان کاٹیکس بھی معاف کر دیا اور انہیں خزانے سے قرضے بھی دے دیے۔ لیکن حکومت عام بزنس مینوں اور کاشت کاروں سے بدستور ٹیکس وصول کرتی رہی اس کے نتیجے میں کام کرنے والوں کو محسوس ہوا ہم کتنےاحمق ہیں۔

ہم کام بھی کرتے ہیں، ٹیکس بھی دیتے ہیں اور جوتے بھی کھا رہے ہیں جب کہ نالائق اوربے کار لوگوں نے اہل لوگوں کی زمینیں اور کاروبار بھی لے لیے ہیں اور حکومت انہیں سپورٹ بھی کر رہی ہے لہٰذا انہوں نے کام بند کر دیا۔ یہ بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کربیٹھ گئے۔ٹیکس کولیکشن کم ہوگئی۔ حکومت نے ان پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا۔ پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ ان لوگوں نےتنگ آکر سامان باندھا اور یہ ان ملکوں میں چلے گئے جہاں ان کی جائیداد بھی محفوظ تھی اور عزت بھی تھی ۔ ریونیو کم ہونےکیوجہ سے فوج کی تنخواہیں اور مراعات کم ہو گئیں۔ یہ بھی کم زور ہو گئے اور دوسرے ملک ہمارے علاقوں پر قبضے کرنے لگے۔ بادشاہ پریشان ہو گیا اور اس نے موبذان سے پوچھا “کیا میں ان حالات کو ٹھیک کر سکتا ہوں” موبذان نے جواب دیا “بادشاہ سلامت بہت آسانی کیساتھ۔” آپ رعایا کو ضمانت دیں ملک میں ان کی زمینیں اور کاروبار ہر طرح سے محفوظ رہیں گے۔ ان پر حکومت سمیت کوئی طاقت قبضہ نہیں کر سکے گی۔ حالات چند ماہ میں ٹھیک ہو جائیں گے۔

بادشاہ نے اسی وقت زمینوں، جائیدادوں اور کاروبار کوتحفظ دے دیا۔ ملک میں قانون بن گیا آئندہ کسی کی چپہ برابر زمین پر بھی قبضہ نہیں ہو گا۔ لوگ جتنا چاہیں کمائیں یہ ریاست کو ٹیکس دیں۔ ملازموں کو بروقت تنخواہیں دیں اور اپنے کاروباری معاہدوں پر عمل کریں۔ ملک کا کوئی شخص اور کوئی ادارہ ان سے سوال نہیں کرے گا۔ اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے حالات بدل گئے۔ لوگوں نے اجڑے کھیت اور برباد بستیاں آباد کرنا شروع کر دیں۔ ٹیکس کولیکشن بڑھ گئی۔ ٹیکس سے بیورو کریسی اور فوج کی طاقت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ سرحدیں محفوظ ہو ئیں اور سلطان بہرام اپنے دور کا سب سے بہترین بادشاہ بن گیا۔

ابن خلدون نے اس واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا اگر حکومت لوگوں کا مال چھیننا شروع کر دے تو پھر لوگوں میں مال کمانے اور اپنا کاروبار بڑھانے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اور یہ سمجھنے لگتے ہیں اگر ہماری زمین، جائیداد اور کاروبارپر آخر میں قبضہ ہی ہونا ہے یا حکومت نے یہ چھین ہی لینا ہے تو پھر کام بڑھانے کا کیا فائدہ چنانچہ ان میں مال کمانے کی لگن ختم ہو جاتی ہے اور اس کا ان کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔ یہ کام کے بغیر بھی آرام دہ زندگی گزار کر چلے جاتے ہیں لیکن ریاست تباہ ہو جاتی ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ اس پر بے کار لوگوں کا بوجھ بھی بڑھتا چلاجاتا ہے اور آمدنی بھی کم ہو تی جاتی ہے۔ ابن خلدون کا مزید کہنا تھا تہذیب اور تمدن کا تعلق بازار اور منڈیوں سے ہوتا ہے۔ ان میں جتنی چہل پہل ہو گی اتنی اس ملک کی آمدن زیادہ ہو گی اور جتنی زیادہ آمدنی ہو گی اتنی ہی اس ملک کی بیوروکریسی فوج اور تخت مضبوط ہو گا اورجتنا تخت مضبوط ہوگا اتنا ہی ملک کی تہذیب اور تمدن شان دار ہوگا۔ ابن خلدون کا یہ بھی کہنا تھا اگر کوئی بادشاہ اپنی سلطنت کو مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تو وہ صرف دو کام کرلے، وہ لوگوں کو کمانے کے مواقع فراہم کرے اور وہ لوگوں کو ان کی زمینوں، جائیدادوں اور مال کے تحفظ کی زمانت دے دے۔ دنیا کی کوئی قوت ملک کو ترقی سے نہیں روک سکے گی۔

ہم اگرآج کی دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کریں۔ تو ایک وہ حصہ یے جہاں ہرشخص کا روزگار، کاروبار اور جائیداد محفوظ ہیں اور دوسرے وہ ممالک ہیں جہاں لوگوں کے مال کے ساتھ عزت اور عزت نفس بھی غیرمحفوظ ہے۔ آپ کو پہلا حصہ ترقی یافتہ اور دوسرے ممالک نیچے کی طرف جاتے نظر آئیں گے۔ بنیادی فرق “مال کے تحفظ”کا ہے۔ دنیا میں اس وقت تقریباؑ دو ہزار چھ سو چار کھرب پتی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے ان میں سےایک بھی شخص کسی نیب کی حراست میں نہیں۔ دنیا میں لوگ روز دیوالیہ ہوتے ہیں لیکن یہ صرف لوگ ہوتے ہیں ادارے نہیں۔ ریاست اداروں، فیکٹریوں اور کمپنیوں کو بند نہیں ہونے دیتی۔ دنیا کاروباری لوگوں کی کتنی قدر کرتی ہے آپ اس کا اندازہ صرف ایک بات سے لگا لیجیے۔ اگرآپ کے پاس ایک ملین ڈالر ہیں تو آپ خواہ دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں آپ خاندان سمیت دنیاکے کسی بھی ملک کی شہریت لے سکتے ہیں۔ امریکا، کینیڈا اور یورپ سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک آپ کو پاسپورٹ دے دیں گے۔ کیوں؟ کیوں کہ آپ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور ساری دنیا کمانے والے لوگوں کی عزت کرتی ہے۔

Leave a Reply