Sultan Qaboos Bin Said سلطان قابوس بن سعید

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Sultan Qaboos Bin Said سلطان قابوس بن سعید

سلطان قابوس بن سعید جیسے درویش، سادہ اور وژنری حکمران دنیا میں کم پیدا ہوتے ہیں۔سلطان قابوس 18 نومبر 1940 میں اومان کے شہر سلالہ میں پیدا ہوئے۔ سلطان صاحب نے 1970میں اومان کی عنان اقتدار سنبھالی۔ سلطان قابوس کتنے بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سلطان جس گاڑی پر اقتدار سنبھالنے کے لیے محل آئے تھے ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بھی اسی 50 سال پرانی گاڑی میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچائی گئی اوران کی قبر بھی ان کی ہدایت کے مطابق سادہ اور عام رکھی گئی۔ یہ اسے مزار نہیں بنوانا چاہتے تھے۔

اب آتے ہیں سلطان کےوژن کی طرف۔سلطان صاحب نے جب بادشاہت سنبھالی تو اس وقت اومان خلیج کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ پورے ملک میں صرف تین سڑکیں تھیں۔ بجلی اور ہسپتالوں کا نام تک نہیں تھا۔ پورے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ اور کوئی منڈی نہیں تھی۔ ملک قبائل میں تقسیم تھا اور تمام قبائل ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان تھے اور اومانی باشندےروزی روٹی کمانے کے لئے دوسرے ملکوں میں مزدوری کرتے تھے۔ سلطان قابوس نے یہ سب دیکھا اور اومان کو بدلنے کا ارادہ کر لیا۔

یہ کس قدر وژنری تھے آپ اس کا اندازہ ان کے صرف ایک قدم سے لگا لیجیے۔یہ اپنے مخالفین کو بلواتے تھے اور ان کے جوان بچوں کو حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور یورپ بھجوا دیتے تھے۔ یہ بچے جب دنیا دیکھ کر اور اعلیٰ تعلیم پا کر واپس آتے تھے تو یہ ریاست کے دشمن سے ریاست کے سب سے بڑے دوست بن چکے ہوتے تھے۔ یہ بچے آج حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔اومان اس وقت خلیج کا پرامن ترین اور خوش حال ترین ملک ہے۔ آپ انصاف، تعلیم، علاج ، روزگار اور امن کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں آپ کو اومان پورے خطے میں آگے ملے گا۔

مسقط اس وقت سنگا پور کے بعد دنیا کا صاف ترین شہر ہے۔ اومان خلیج کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کو 17 فیصد نمائندگی دی ہے۔ سلطان کی پوری کابینہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ وزراءآکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ اور ہائیڈل برگ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ مسجدوں کے امام بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ کسی گاﺅں کے مفتی سے بھی بات کر لیں۔ وہ بھی اپنے لہجے اور تہذیب سے آپ کو حیران کر دے گا۔

پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے۔لیکن اومان میں کسی قسم کی کوئی مسلکی تقسیم ہے نہ ہی قبائلی۔ لوگ نماز تک ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں۔ آپ یونیورسٹیاں دیکھیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ آپ ہسپتال، سکول، کمیونٹی سنٹرز اور شاپنگ مالز دیکھیں۔ یہ بھی آپ کو حیران کر دیں گے اور آپ لوگوں کے رویے بھی دیکھ لیں۔آپ ان کی شائستگی، تہذیب اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے سلطان نے یہ سب کیسے کیا؟ اس حوالے سے سلطان قابوس نے جو پہلا کام کیا وہ امن تھا۔ سلطان نے 1970ءمیں فیصلہ کیا تھا یہ دنیا کے کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے اور یہ نہ ہی کسی کے ساتھ جنگ کریں گے چنانچہ آپ دیکھیں اومان پچاس سال میں کسی عالمی یا اسلامی تنازع میں فریق نہیں بنا۔آپ سلطان قابوس کی ذہانت ملاحظہ کیجیے۔ اومان کی سرحدیں یمن، یو اے ای اور سعودی عرب سے ملتی ہیں۔ اومان کے تینوں ملکوں کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی پیدا ہوئے لیکن سلطان قابوس نے لڑنے کی بجائے یو اے ای کے شیخ زید بن سلطان النہیان کو دعوت دی۔ نقشہ ان کے سامنے رکھا اوران سے کہا آپ اس پر لکیر لگا دیں۔ ہم اس لکیر کو سرحد مان لیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے نہیں۔ شیخ زید نے نشان لگا دیا اور اومان نے اسے سرحد مان لیا۔ تنازع ختم ہو گیا۔ یمن اور سعودی عرب کے ساتھ بھی سرحدی تنازعے اسی طرح حل کیے گئے۔ سلطان کہتے تھے “ہم ہمسایوں کے ساتھ لڑ کر امن سے نہیں رہ سکیں گے” چنانچہ یہ بڑے سے بڑا ایشو بھی گفتگو کے ذریعے حل کرتے تھے۔

دوسرا یہ میرٹ پر بھی بے انتہا یقین رکھتے تھے۔ اومان میں پچھلے پچاس برسوں میں تمام عہدوں پر صرف اور صرف اہل لوگوں کو تعینات کیا گیا اور وہ اہل لوگ خواہ سلطان کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں انہیں کوئی نوکری اور ترقی سے نہیں روک سکتا تھا۔ تیسرا یہ انصاف اور عدل پر بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے۔ یہ ہو نہیں سکتا تھا ملک کا کوئی طاقت ور شخص کسی کمزور کا حق مار لے اور ریاست اس پر خاموش رہے۔ سلطان نے اربوں روپے کے پلازے اور زمینیں حق داروں کو واپس کرائیں اور اس عمل میں کسی کا دباﺅ قبول نہیں کیا۔

آپ مسقط کی جامع سلطان قابوس دیکھ لیں یا پھر مسقط کے اوپیرا ہاﺅس کا وزٹ کر لیں آپ کو دونوں ششدر کر دیں گے۔ آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے سلطان نے اوپیرا ہاﺅس زیادہ اچھا تعمیر کیا یا پھر جامع مسجد اور آپ سڑکیں بھی دیکھ لیں۔ سلطان نے صحرا کے اندر تک سڑکیں پہنچا دیں اور یہ سارے کام ایک ہی سلطان کے دور میں ہوئے۔مسقط کے اندر الموج (ویوز) نام کا ایک وسیع رہائشی کمپاﺅنڈ ہے۔ یہ سمندر کے کنارے ہے اور یہ ہر لحاظ سے دوبئی لگتا ہے۔ یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کا کمپاﺅنڈ ہے۔ آپ اس میں داخل ہوں آپ کو محسوس ہوگا آپ کسی عرب ملک کی بجائے یورپ میں پھر رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے زیادہ تر معزول حکمرانوں کے خاندان الموج میں رہتے ہیں۔ کرنل قذافی کی فیملی بھی یہاں رہتی ہے اور شام، یمن، عراق اور لبنان کے معزول حکمرانوں اور وزراءکے بچے بھی۔سلطان قابوس حالات کے شکار حکمرانوں کے برے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے تھے۔ یہ ہر لٹے پٹے حکمران اور اس کے خاندان کے لیے اپنے دروازے کھول دیتے تھے۔

شاید یہی وجہ ہےکی جب 10 جنوری 2020 کو سلطان کا انتقال ہوا توان کے جنازے میں تمام عرب طاقتوں کے سربراہ اور نمائندےموجود تھے۔آپ یہ بھی دیکھیے اومان واحد عرب ملک ہے جس میں کوئی ولی عہد نہیں تھا۔ سلطان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کھولی گئی۔ سلطان نے ہیثم بن طارق السعید کو بادشاہ نامزدکیا تھا اور پورے خاندان اور ملک میں سے کسی نے چوں تک نہ کی۔ ہر شخص نے سلطان کے فیصلے پر آمین کہہ دی۔ پوری دنیا کا خیال تھا سلطان قابوس کے بعد تخت اور تاج کے ایشو پر اومان بکھر جائے گا لیکن سلطان کے اخلاص اور محبت نے انتقال کے بعد بھی ملک کو جوڑے رکھا۔
ملک میں کسی جگہ بغاوت ہوئی اور نہ شورش۔ کسی نے مخالفانہ آواز تک نہیں نکالی۔

سلطان قابوس بن سعید اسلامی دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے روشن مثال ہے کہ اگر انسان دنیا میں کچھ کرنا چاہے تو یہ اکیلا فرد پوری قوم کا مقدر بدل سکتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس کی قبر دنیا کا سب سے بڑا مقبرہ بن سکتی ہے۔ لوگ اس کی کچی قبر کی مٹی کو سرمہ بنا لیتے ہیں اور سلطان قابوس زندہ تھے تو یہ کمال تھے۔ یہ انتقال فرما گئے تو یہ کمال سے بھی بڑا کمال بن گئے۔ یہ ثابت کر گئے لوگوں کی خدمت کرنے والے حکمران مزاروں اور مقبروں کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی کچی قبریں بھی تاج محل سے اونچی اور قیمتی ہوتی ہیں۔

Leave a Reply