Testamentum of Muhammad SAW رسول اللہ ﷺ کاعہد نامہ

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Testamentum of Muhammad SAW رسول اللہ ﷺ کاعہد نامہ

تیرہ سو قبل مسیح میں حضرت موسیٰ ؑ اپنی اہلیہ حضرت صفورا اور بچوں کے ساتھ کوہ طور کے قریب سے گزر رہےتھے۔ سردی کا موسم تھا۔
آپؑ کو پہاڑکے دامن میں آگ نظر آئی۔ آپؑ آگ لینے کے لئے پہاڑ پر تشریف لے گئے۔ آپؑ کو طور کے دامن میں جلتی ہوئی جھاڑی نظر ٰآئی۔ آپؑ قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کا جلوہ نظرآیا اورآپؑ کو نبوت مل گئی۔ یہودیوں نے جھاڑی کے گرد عبادت گاہ بنا دی۔ جب حضرت عیسیٰ ؑ تشریف لائے تو یہ علاقہ عیسائی بادشاہوں کے قبضے میں آگیا۔ رومن بادشاہ قسطنطین نے 365ء میں یہاں ایک چھوٹا سا چرچ (چیپل) بنا دیا۔ یہ چرچ سکندریہ کی ایک نیک خاتون کیتھرائن کی وجہ سے سینٹ کیتھرائن کہلانے لگا۔

565ء میں رومن بادشاہ سیزر جسٹینین نے یہاں ایک بڑی خانقاہ تعمیر کرا دی. جو آج تک سلامت ہے۔ حضرت موسیٰ ؑسے منسوب جھاڑی بھی اسی خانقاہ میں موجود ہے۔یہ مقام برننگ بش کہلاتا ہے۔ سینٹ کیتھرائن میں ایک لائبریری بھی ہے۔ یہ لائبریری دنیا کی دوسری قدیم ترین لائبریری ہے۔ اس میں دنیا کی قدیم معتبردستاویز موجود ہیں. یہ دستاویز ڈاکومنٹس کہلاتے ہیں. ان ڈاکومنٹس میں نبی اکرمؐ سے منسوب ایک خط مبارک بھی موجود ہے. خط پر آپؐ کے دست مبارک کا نشان ہے. عیسائی اس خط کو نبی اکرمؐ کاکوونیٹ ٹیسٹامنٹ جب کہ مسلمان عہد نامہ کہتے ہیں. یہ دنیا میں ایسی واحد دستاویز ہے جس پررسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کا نشان ہے۔ یہ مقام تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف خلفاء کے قبضے میں رہا لیکن خلفاء راشدین ہوں, بنو امیہ کا دور ہو, عباسیوں اور فاطمیوں کا عہد ہو،سلطان صلاح الدین ایوبی کا زمانہ ہو یا پھر خلافت عثمانیہ ہو۔ یہ چرچ بھی محفوظ رہا اور یہ عہد نامہ بھی۔ مسلمان حکمران بدلتے رہے لیکن ہر حکمران نے اس عہد نامے کا احترام کیا۔ یہ معاہدے کا تذکرہ “تاریخ سینا القدیم” جیسی معتبر کتاب میں بھی موجودہے۔

عثمانی خلیفہ سلیم اول نےجب 1516ء میں مصر فتح کیا۔ تو سلیم اول نہ صرف خود سینٹ کیتھرائن پہنچا بلکہ اس نے اس عہدنامے کی تصدیق بھی کی۔عثمانیوں کے دور میں گورنرمصر (پاشا آف مصر) عہد نامے کی تصدیق کے لیے ہر سال سینٹ کیتھرائن جاتا تھا۔وہ عہد نامے کو چومتا تھااور تصدیق نامہ جاری کرتا تھا۔ یہ تصدیق نامے بھی آج تک چرچ کی لائبریری میں موجود ہیں۔

یہ عہد نامہ کیا ہے اور یہ کیوں کیا گیا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں. ایک روایت کے مطابق سینٹ کیتھرائن کے چند متولی مدینہ آئے. نبی اکرمؐ نے ان کی میزبانی فرمائی. متولیوں نے رخصت ہونے سے پہلے عرض کیا.ہمیں خطرہ ہے جب مسلمان طاقتور ہو جائیں گے تو یہ ہمیں قتل اور ہماری عبادت گاہوں کو تباہ کر دیں گے. آپؐ نے جواب دیا. آپ لوگ مجھ سے اور میری امت کے ہاتھوں سے محفوظ رہیں گے. متولیوں نے عرض کیا. ہم لوگ جب بھی کسی سے معاہدہ کرتے ہیں تو ہم وہ لکھ لیتے ہیں۔

آپؐ بھی ہمیں اپنا عہد تحریر فرما کر عنایت کر دیں تاکہ ہم مستقبل میں آپؐ کے امتیوں کو آپؐ کی یہ تحریر دکھا کر امان حاصل کر سکیں. آپؐ نے تحریر لکھوائی تصدیق کیلئے کاغذ پر اپنے دست مبارک کا نشان لگایا اور عہدنامہ ان کے حوالے کر دیا. وہ لوگ واپس آئے اور معاہدہ سینٹ کیتھرائن میں آویزاں کر دیا. مسلمان حکمرانوں نے اس کے بعد جب بھی مصر فتح کیا اور یہ سینا اور کوہ طور پہنچے تو خانقاہ کے متولی نبی اکرمؐ کا عہد نامہ لے کر گیٹ پر آ گئے. فاتحین نے عہد نامے کو بوسا دیا اور واپس چلے گئے. سینٹ کیتھرائن اسلامی دنیا کا واحد مقام ہے جو اس عہد نامے کی وجہ سے آج تک کسی مسلمان بادشاہ کے زیرقبضہ نہیں رہا۔یہ خانقاہ ہر دور میں آزاد رہی۔ یہ آج بھی آزاد ہے۔ وہ عہد نامہ کیا تھا۔ اس کا ترجمہ یہ یے۔

یہ خط رسول اللہ ﷺ ابن عبداللہ کی جانب سے تحریر کیا گیا جنہیں اللہ کی طرف سے مخلوق پر نمائندہ بنا کر بھیجا گیاتاکہ خدا کی طرف کوئی حجت قائم نہ ہو” بے شک اللہ قادر مطلق اور دانا ہے۔ یہ خط اسلام میں داخل ہونے والوں کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ ہمارے اوردورو نزدیک، عربی اور عجمی، شناسا اور اجنبی اور عیسائیوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے درمیان ہے۔ یہ خط ایک حلف نامہ ہے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے گا۔ وہ کفر کرے گا۔ وہ اس حکم سے روگردانی کا راستہ اختیار کرے گا۔

معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والا خدا اور اس کے حکم کا نافرمان ہو گا۔ اس (خط) حکم کی نافرمانی کرنے والا بادشاہ یا عام آدمی خدا کے قہر کا حق دار ہوگا جب کبھی عیسائی عبادت گزار اور راہب ایک جگہ جمع ہوں۔ چاہے وہ کوئی پہاڑ ہو یا وادی، غار ہو یا کھلا میدان،کلیساء ہو یا گھر میں تعمیر شدہ عبادت گاہ ہو تو بے شک ہم (مسلمان) ان کی حفاظت کیلئے ان کی پشت پر کھڑے ہوں گے۔ میں، میرے دوست اور میرے پیروکار ان لوگوں کی جائیدادوں اور ان کی رسوم کی حفاظت کریں گے۔ یہ (عیسائی) میری رعایا ہیں اور میری حفاظت میں ہیں۔

ان پر ہر طرح کا جزیہ ساقط ہے جو دوسرے ادا کرتے ہیں۔ انہیں کسی طرح مجبور، خوف زدہ، پریشان یا دباؤ میں نہیں لایا جائے گا۔ ان کے قاضی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ ان کے راہب اپنے مذہبی احکام اور اپنی رہبانیت کے مقامات میں آزاد ہیں۔ کسی کو حق نہیں یہ ان کو لوٹے۔ ان کی عبادت گاہوں اور کلیساؤں کو تباہ کرے اور ان (عمارتوں) میں موجود اشیاء کو اسلام کے گھر میں لائے۔ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حلف کی خلاف ورزی کرے گا۔ ان کے قاضی، راہب اور عبادت گاہوں کے رکھوالوں پر بھی جزیہ نہیں۔

ان سے کسی قسم کا جرمانہ یا ناجائز ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ بے شک میں ان سے وعدے کی پاس داری کروں گا۔ چاہے یہ زمین میں ہیں یا سمندر میں مشرق میں ہیں یا مغرب میں، شمال میں ہیں یا جنوب میں، یہ میری حفاظت میں ہیں۔ ہم اپنے مذہبی خدا کی عبادت میں زندگی وقف کرنے والوں (راہبوں) اور اپنی مقدس زمینوں کو زرخیز کرنے والوں (چرچ کے زیر انتظام زمینوں) سے کوئی ٹیکس یا آمدن کا دسواں حصہ نہیں لیں گے۔ کسی کو حق نہیں کہ وہ ان کے معاملات میں دخل دے یا ان کے خلاف کوئی اقدام کرے۔

ان کے زمین دار، تاجر اور امیر لوگوں سے لیا جانے والا ٹیکس 12 درہم(دراچما) سے (موجودہ 200 امریکی ڈالر) سے زائد نہیں ہو گا۔ ان کو کسی طرح کے سفر (نقل مکانی) یا جنگ میں حصہ لینے (فوج میں بھرتی) پر بھی مجبور نہیں کیا جائے گا۔ کوئی ان سے جھگڑا یا بحث نہ کرے۔ ان سے قرآن کے احکام کے سوا کوئی بات نہ کرو “اور اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر ایسے طریقے سے جو عمدہ ہو” (سورۃ العنکبوت آیت 46) پس یہ مسلمانوں کی جانب سے ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ ہیں۔

چاہے یہ عبادت گاہ میں ہیں یا کہیں اورکسی عیسائی عورت کی مسلمان سے اس کی مرضی کے خلاف شادی نہیں ہو سکتی۔ اس کو اس کے کلیساء جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ ان کے کلیساؤں کا احترام ہو گا۔ ان کی عبادت گاہوں کی تعمیر یا مرمت پر کوئی پابندی نہیں ہو گی اور انہیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ قیامت تک اور اس دنیا کے اختتام تک اس حلف کی پاس داری کرے”۔

عہد نامے کے نیچے نبی اکرم ؐ کے دست مبارک کا نقش ہے۔ یہ نقش رسول اللہ ﷺ کے دستخط کی حیثیت رکھتا ہے۔

مسلمانوں نے 1400 سال کی تاریخ میں اس عہد نامے کا احترام کیا۔ ہم نے ان برسوں میں کسی چرچ پر حملہ کیا۔ نہ کوئی راہب قتل کیا اور نہ ہی کسی کلیساء کی زمین پر قبضہ کیا۔ حتیٰ کہ صلیبی جنگوں کے دوران بھی اس معاہدے پر عمل ہوتا رہا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المقدس کی فتح کے بعد کلیساء میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اموی خلفاء نے دمشق میں جامع امیہ بنانے کا فیصلہ کیا تو عیسائیوں سے چرچ کی زمین باقاعدہ خریدی بھی گئی اور انہیں پورے دمشق میں “جہاں چاہیں اور جتنے چاہیں” چرچ بنانے کی اجازت بھی دی۔

سپین میں بھی آٹھ سو سال عیسائی اور چرچ محفوظ رہے۔ مسجد قرطبہ میں چرچ کی زمین کا تھوڑا سا حصہ آ گیا۔ خلیفہ نے تعمیر رکوا کر پادری سے اجازت لی اور معاوضہ ادا کیا۔ سعودی عرب، عراق، مصر، ترکی، فلسطین، ایران اور سنٹرل ایشیا میں آج بھی پونے دو ہزار سال پرانے چرچ موجود ہیں۔ یہ چرچ ان ادوار میں بھی سلامت رہے جب مسلمان مسلمان کی خانقاہیں گرا دیتے تھے۔ جب مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان قتل ہو جاتے تھے۔ امیر تیمور نے 58 اسلامی ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر کلیساء محفوظ رہے۔یہ ہےنبی اکرم ؐکا عہد نامہ اور اسکی اہمیت۔

Leave a Reply