Vegetarian ویجی ٹیرین

  • Post author:
  • Post category:Blog
  • Post comments:0 Comments

Vegetarian ویجی ٹیرین

جیمز وکس 5 اپریل 1978 میں برطانیہ میں پیدا ہوا۔ جیمز بچپن سے ہی مارشل آرٹس کا شوقین تھا۔ لہذا جوڈو کراٹے، باکسنگ اور باڈی بلڈنگ سیکھی اورعملی میدان میں آگیا۔ اس نے مارشل آرٹس کی دنیا میں کمال کر دیا۔ بہت سی فائیٹس لڑی اور ایوارڈز پر ایوارڈز حاصل کرتا چلا گیا ۔ یہ 2000ءمیں برطانیہ سے امریکا شفٹ ہو گیا۔ اپنا جم بنایا اور امریکی نیوی اور فوج کو مارشل آرٹس کی ٹریننگ دینے لگا۔ زندگی شان دار گزر رہی تھی۔ بیوی بھی تھی۔ گھربھی تھا۔ نام بھی تھا اور روزگار بھی نیز ہر وہ سہولت میسر تھی جس کی کوئی انسان خواہش کر سکتا ہے۔لیکن پھر زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور یہ 2012ءمیں انٹرنل انجریز کا شکار ہو گیااور چھ ماہ کے لیے بیڈریسٹ پہ چلا گیا۔

ڈاکٹروں نے اسےکسی بھی قسم کی ایکسرسائز اور ٹریننگ سے روک دیا۔ یہ پابندی اور یہ حادثہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا لیکن پھر یہ بیماری پوری دنیا کے لیے گڈ لک ثابت ہوگئی۔جیمز وکس کا حادثہ ایک نئی تحقیق اور ایک نئے انکشاف کا ذریعہ بن گیا۔ آج جیمز وکس اپنے حادثے کو معجزہ اور اپنے “بیڈریسٹ” کو دنیا کے لیے عظیم تحفہ قرار دیتا ہے۔ یہ تحفہ کیا تھا؟ یہ تحفہ خوراک تھی۔ جیمزوکس نے گھر میں بیٹھ کر خوراک پر تحقیق شروع کر دی۔ تحقیق کے دوران پتا چلا انسان کے لیے پودوں سے حاصل ہونے والی خوراک بہترین ہوتی ہے۔ انسان اصل میں ویجی ٹیرین (سبزی خور) ہے۔ یہ جب تک سبزی اور پودوں تک محدود تھا تو یہ اس وقت تک صحت مند بھی رہتا تھا۔ خوش بھی اور ایکٹو بھی۔ اس کی عمر بھی اس وقت تک زیادہ ہوتی تھی اور صحت بھی۔ انسان نے جب گوشت کھانا شروع کیا تو اس کی عمر بھی کم ہوتی گئی اور یہ بیماریوں کا شکار بھی ہونے لگا۔ جیمزوکس کو پتا چلا انسان کو زیادہ تر بیماریاں گوشت اور انڈوں سے لگتی ہیں۔ یہ جتنی ریسرچ کرتا گیا اسے پتا چلتا گیا دنیا کے تمام بڑے جنگجو سبزی خور تھے۔روم کے گلیڈی ایٹرز پوری زندگی سبزیاں کھاتے تھے۔ ماہرین نے 68 گلیڈی ایٹرز کی ہڈیوں کا معائنہ کیا۔ یہ عام لوگوں سے کئی گنا طاقتور ہڈیوں کے مالک تھے اور یہ تمام سبزیاں کھاتے تھے۔جیمزوکس کو یہ بھی معلوم ہوا سپورٹس میں ورلڈ ریکارڈز قائم کرنے والے 95 فیصد کھلاڑی بھی ویجی ٹیرین تھے۔ اسے پتا چلا دنیا کے طاقتور ترین شخص پیٹرک بابو مین نے پوری زندگی انڈہ، دودھ اور گوشت نہیں کھایا یہ صرف سبزیاں اور دالیں کھاتا ہے۔

امریکا کا سب سے بڑا ویٹ لفٹر اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ کنڈرک جیمز فیرس بھی سبزی خور ہے۔ سائیکل میں ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والی خاتون ڈوٹسی بوسچ، چار سو میٹر کی ریس دو مرتبہ جیتنے والی آسٹریلین ایتھلیٹ مارن مچل، نو گولڈ میڈل حاصل کرنے والا ایتھلیٹ کارل لیوس، چار گولڈ میڈل لینے والا موری روز اور ڈیوی نورمی اور 100 میل کی میراتھن ریس کا ریکارڈ قائم کرنے والا سکاٹ جورک بھی سبزی خور ہیں۔ جورک24 گھنٹوں میں 266 کلو میٹر دوڑنے والا چوتھاامریکی ایتھلیٹ ہے۔ اس نے 135 کلو میٹر لمبی ڈیتھ ویلی بھی دوڑ کر عبور کی، یہ بھی گوشت اور انڈے نہیں کھاتا تھا۔

جیمز وکس تحقیق کرتا چلا گیا اور اس تحقیق کے دوران اسے پتا چلتا گیا سبزی خور لوگوں میں گوشت خوروں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے۔ یہ ان سے زیادہ تیز اور صحت مند بھی ہوتے ہیں۔ اسے یہ بھی پتا چلا سبزیوں اور دالوں میں ریکوری اور صحت کی بحالی کے عناصر بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مریض اگر سبزیوں کا سوپ پئیں تو یہ جلدی صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جیمزوکس کی تحقیق نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس نے بعد ازاں دی گیم چینجر کے نام سے ڈاکو منٹری فلم بنائی اور پوری دنیا میں تہلکا مچا دیا۔

فلم کا خلاصہ یہ تھا ہم جو کھاتے ہیں ہم ویسے بن جاتے ہیں۔ انسان صرف سبزی خور جانوروں کا گوشت کھا سکتا ہے۔ یہ گوشت خور جانوروں کا گوشت ہضم نہیں کر سکتا چنانچہ پھر ہم وہ چیزیں (سبزیاں اور پودے) کیوں نہ کھائیں جنہیں کھا کر بیل بیل، گائے گائے اور بکری بکری بنتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ہم کیا ہیں اور ہمارے رویے کیا ہیں؟ یہ فیصلہ ہماری چند عادتیں کرتی ہیںاور ان عادتوں میں پہلی عادت خوراک ہوتی ہے۔ گڈ فوڈ گڈ لائف ،بیڈ فوڈ بیڈ لائف۔ ہم اگر اچھی اور صحت مند خوراک کھائیں گے تو ہماری جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت اچھی ہو گی۔

ہم کیا ہیں اس کا دوسرا فیصلہ پانی اور ہواکرتے ہیں۔ پانی میں اگر جراثیم، فضلا اور کیمیکل ہوں گے اور ہوا میں اگر آکسیجن کم اور کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائیٹروجن اور سیسہ زیادہ ہو گا تو ہمارا دماغ بے قابو ہو جائے گا۔ ہمارے اعصاب کم زور ہو جائیں گے۔ تیسرا فیصلہ ماحول اور میڈیا کرتا یے۔ چوتھا فیصلہ معاشی دباوٰ، روزگاراورضروریات زندگی کرتی ہیں۔پانچواں فیصلہ رشتے داروں کے رویے، توقعات دوست اور لوگ کرتے ہیں اور آخری فیصلہ نیند ہماری زندگی میں بے انتہا اہم ہوتی ہے۔ ہم اگر آٹھ سے نو گھنٹے نہ سوئیں تو بھی ہم جذباتی عدم استحکام کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ وہ حقیقتیں ہیں جن پر ہم نے آج تک غور نہیں کیا۔

ہماری خوراک غیر متوازن اور جعلی ہے۔ ہمارا پانی گندا، فضا میں آلودگی۔ معاشرے میں شور اور افراتفری۔ میڈیا بری اور خوف ناک خبروں کا بازار۔ روزگار غیر مستحکم۔ بڑھتا ہوا معاشی دباﺅ۔ ضروریات زندگی میں مسلسل اضافہ۔ رشتے دار، دوست احباب اور دائیں بائیں موجود لوگ انتہائی ناشائستہ اور بے اعتبار اور ان کے ساتھ ساتھ ہم میں سے ہر شخص نیند کی کمی کا شکاربھی ہے۔ آپ کسی دن صرف اپنی زندگی دیکھ لیں آپ کو اس میں بھی کوئی چیز سیدھی نظر نہیں آئے گی۔

آپ کسی دن جیب میں ٹیپ ریکارڈر رکھیں۔ سارا دن اپنی گفتگو ریکارڈ کریں اور رات کو سنیں آپ کو اپنا آپ بھی برا لگے گا۔ لہٰذا ہمیں اب جاگنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ ہم تباہی کے اس دہانے پہ پہنچ جائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو ۔

Leave a Reply